بدلتا بیانیہ : نئے پاکستان میں بھی بلاول بھٹو کی جیت

انتخابات 2018  میں تمام تر کوششوں کے بعد بھی پاکستان تحریک انصاف اقتدار کے سنگھاسن پر پہنچنے کےلئے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اب نااہل ترین قرار پانے والے ان سیاسی جماعتوں سے اتحاد بنا رہے جو کالعدم ہوئے تو نام بدل کر انتخابات میں حصہ لیا جس پر پوری دنیا نے انتخابی عمل کو مشکوک قرار دیا۔

صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ لگانے والوں کا بیانیہ بدل رہا ہے، ماضی میں ہارس ٹریڈنگ پر ایمپائر کی فراہم کردہ انگلی اٹھا اٹھا بے ضمیری قرار دینے والے اب “انشااللہ تعداد پوری کرلیں گے کا بیانیہ لئے ضمیروں کی خریدی کے لئے پاکستان بھر میں جہاز گھما رہے ہیں جس کا کنڈیکٹر نااہل ترین آوازیں لگا رہا “اسلام آباد چلو ،اقتدار میں چلو ، وزارتیں لے لو” ۔۔۔۔ ایرہ وغیرہ جہاز کے مسافر بن کر بنی گالا پہنچ رہے اور ضمیر فروشی کے میثاق تحریری ہورہے اور جیسے مدینے والی توخیر نہیں شائد یثرب والی ریاست بننے جا رہی ہو۔

اقتدار تک پہنچنے کے لئے ضمیروں کی خریدوفروخت کے مراحل کی جو تصاویر بنی گالا سے لیک ہو رہیں اس سے میثاق کی تشکیل کے مرحلے میں ہونے والی سودے باز باریش ” اعتماد فروش ” کے چہرے کے تیور اور خریداروں کے چہروں پر بنے زاوئیے ساری کہانی بیان کر رہے جو میثاق لکھے جا رہے وہ صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ لگانے والے کہاں عوام کے سامنے لائیں گے۔

دوسری جانب بھی منظر کچھ مخلتف نہیں انتخابات سے قبل کالعدم گروپوں کی حمایت حاصل کرنے والے دائیں بازو کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن ، مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اور قوم پرست جماعتیں فی الوقت نظام الٹنے کا لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں ، اسمبلیوں سے حلف نہ اٹھانے سے انکار کا اعلان پہلے ہی کر چکے اور دوسروں کو حلف نہ اٹھانے دینے بارے لائحہ عمل بنا رہے۔ تاہم ان جماعتوں کے سر پر یہ تلوار لٹک رہی ہے کہ انکے اپنے منتخب اراکین بھی ضمیر فروشی کرتے ہوئے کوئی فارورڈ بلاک بنا کر حلف اٹھانے پہنچ سکتے ہیں۔ شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں مسلم لیگ ن کے فاروڈ بلاک کی تشکیل بارے چہ میگوئیاں گونج اختیار کر رہی ہیں۔

انتخابات کے بعد عوام کے دئیے اعتماد کا سودا کرنے والے آزاد نااہلوں اور کالعدموں کی حمایت سے حکومت سازی کو دنیا بھر کی حکومتیں دیکھ رہی ہے کہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دنیاکے چھٹے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کا محکمہ زراعت کیسے کیسے گل کھلانے کا تجربہ کر رہا ہے۔

تصویر کا ایک تیسرا رخ یہ بھی ہے قبل از انتخابات ہی شہباز شریف کو پنجاب اور مرکز میں حکومت نہ بنانے دینے کا اعلان رکھنے والی پاکستان پیپلزپارٹی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے زخمی ہونے کے باوجود پارلیمانی نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر سب کو قائل کر رہی ہے ۔ پیپلزپارٹی کو 1977 جیسی سیاست میں ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی لاش اٹھنے کا تلخ تجربہ ہے جو آج بھی نئے اور پرانے پاکستان کے حامیوں کے لئے جدوجہد کا واحد استعارہ ہے۔ اسی لئے 1977 کی سیاست دہرانے کا نعرہ لگانے والوں اور 1977 کے بعد غیر سیاسی ماحول میں پرورش پانے والوں کو پیپلزپارٹی کسی ناخوشگوار تجربے سے بچنے کا مشورہ دے رہی ہے۔

شہباز شریف ، سراج الحق اور حاصل بزنجو نے پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اسمبلیوں کا حلف اٹھانے اور پارلیمان میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یقینا یہ نئے پاکستان میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی بڑی جیت ہے۔