فیس بک پیج سے منسلک ہوں

کون حکومت بنانے اور کون جمہوریت بچانے کیلئےسرگرم

انتخابات کا نتیجہ 2002 جیسا مگر اس کے نتیجے میں حالات 1977 جیسے ہیں میڈیا خبر دینے میں آزاد نہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کے انتخابات میں قبل از اور بعد از انتخاب ہونے والی دھاندلیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ انتخابات میں ہارنے والی پختون اور اردو قوم پرست اور پختون علاقوں کی مقبول مذہبی جماعتیں اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھانے اور پارلیمنٹ کی ناکہ بندی کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔

ایسے میں پیپلزپارٹی نے اپنی سیاست کی انفرادی برقرار رکھتے ہوئے کسی اے پی سی کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہوئے جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنے کی پالیسی کو اپنایا اور سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو بھی ایسا ہی فیصلہ میں عافیت دکھائی دی۔

پیپلزپارٹی اور اسکی اتحادی جمہوریت کی تسلسل کے حامی پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کے سیاسی راستے پر گامزن ہیں وہیں ریاست کے انتخابات کا انعقاد کے ذمہ دار ادارے مسلسل ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو جلتی پر تیل کے مصداق ہیں۔

انتخابات کے چار دن بعد بھی انتخابی نتائج مکمل نہیں۔ امیدواروں کے دوبارہ گنتی کی درخواستوں پر متضاد فیصلوں کے نتیجہ میں کئی شہروں میں احتجاج پھوٹ رہے ہیں ۔ مظاہرین اور پولیس و فوج میں تصادم کی اطلاعات ہیں۔ پختونخوا میں یہ صورتحال کافی پریشان کن ہے۔ مری میں حالات کشیدہ ہیں ، بعین خبریں مانسہرہ اور چارسدہ سے آئی ہیں۔

ملک میں کیا ہو رہا ہے انتخابی نتائج سے کیا آگ سلگ اٹھی اس سے قطع نظر پی ٹی آئی کی قیادت اپنی حکومت سازی کے لئے آزاد منتخب اراکین اور اقلیتی نشستوں کے حامل سیاسی گروہوں کی وفاداریاں خریدنے کے لئے ملک میں جہاز گھمائے پھر رہی ہے اور کھلاڑی انتخابی دھاندلی کے نتیجہ میں ملنے والی مشکوک جیت کو فائرنگ میں اڑا رہے ہیں وہاں پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابابی دھاندلی کے نتیجہ میں سلگی آگ کو بجھانے کے لئے لائحہ عمل بنایا ہے اور پیپلزپارٹی کے معتبرین انتخابی نتائج پر مشتعل سیاسی قیادت کو پارلیمانی دھارے میں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا مشن شروع کر چکے ہیں۔

یہ وہ سیاسی منظر نامہ ہے جس میں سیاسی روئیے سیاسی جماعتوں کے پختگی اور ناپختگی وا کر رہے ہیں۔ اس مشکل صورت حال میں ریاست ، سیاست اور انتظامی اداروں کو ذمہ دارانہ کردار میں واپس آنا پڑیگا وگرنہ حالات جمہوریت کو لپٹنے کے خواہشمندوں کے لئے بتدریج موافق ہوتے چلے جائینگے۔

**متعلقہ وڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دیئےلنک کو کلک کریں:

بلاول بھٹو کا جمہوریت بچانے کیلئے مشن ، پی پی رہنماووں کے سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع