فیس بک پیج سے منسلک ہوں

انتخابات متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی, فرحت اللہ بابر

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم : پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینا، پولنگ اسٹیشن کے اندر ایک وقت میں تین چار افراد کو داخلے کی اجازت دے کر پولنگ کو سست روی کا شکار کرنا ، پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواستوں کو رد کرنا اور عوام کو پولنگ اسٹیشنوں سے باہر رکھنا جبکہ عسکریت پسند تنظیموں اور کالعدم تنظیموں کو پولنگ کے روز کھلی چھوٹ دینے کے بعد پولنگ کا دن ایک ایسا دن بن گیا ہے جو ایک طویل عرصے تک قوم کی یادداشت میں ایک خوفناک دن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل انتخابات میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ آہستگی سے انقلاب آگیا ہے اور پری پول ریگنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔ امیدواروں پر ان کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور ان کو ٹکٹ واپس کرنے کے لئے دباﺅ ڈالنا اور ایک خاص پارٹی میں شامل ہونے کے لئے دباﺅ ڈالنا ایسی پری پول ریگنگ تھی جو اظہرمن الشمس ہے۔ انتہاپسند تنظیموں کو نئے ناموں سے ان انتخابات میں لایا گیا اور لشکری طیبہ کے تقریباً 200افراد کو انتخابی عمل میں شریک کیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب FATFنے پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر ایسی سنسرشپ عائد کی گئی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اخبار بیچنے والوں کو ہراساں کیا گیا اور ٹیلی وژن چینلوں کو ان کے نمبر سے تبدیل کرکے آخر کے نمبروں پر ڈال دیا گیا تاکہ ان کو دیکھنے والوں کی تعداد کم کی جا سکے اور انہیں اشتہارات بھی کم مل سکیں۔ انتخابات کے روز جس طریقے سے اثرانداز ہوا گیا وہ بھی پری پول ریگنگ کا تسلسل ہی تھا۔ ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کو پولنگ اسٹیشنوں پر بندوقوں کے ساتھ تعینات کیا گیا اور انہیں مجسٹریٹ کے اختیارات دے دئیے گئے۔ انتخابات کے روز ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور اس طرح ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو ان کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات 2018ءکو جان بوجھ کر منتازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے قبل کبھی بھی انتخابات پر اس طرح دخل اندازی نہیں کی گئی اور انہیں متنازعہ نہیں بنایا گیا۔