فیس بک پیج سے منسلک ہوں

انتخابات 2018:سیاسی قیادتوں نے انتخابی مہم میں کیا کھویا کیا پایا؟

 

دہشتگردی کے پے درپے بڑے واقعات میں امیدواروں سمیت سینکڑوں افراد کے جانی نقصان کیساتھ 2018 کی انتخابی مہم اختتام پذیر ہوئی، دہشتگردی کے بڑے واقعات انتہاپسندی سےمتاثرہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں رونما ہوئے ۔ 25 جولائی کو دس کروڑ سے زائد ووٹر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے اپنے نمائندوں کے چناو کے لئے حق رائے دہی کا استعمال کرینگے۔

پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات اس حوالے سے اہم ہیں کہ پاکستان میں اقتدار کی پرامن منتقلی کا عمل دوسری بار جمہوری انداز میں وقوع پذیر ہوگا۔

دہشتگردی اور انتہا پسندی

انتخابی مہم کے دوران ہونے والے دہشتگردی کا سب سے بڑا واقعہ بلوچستان میں ہوا جہاں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کے انتخابی جلسہ کو نشانہ بنایا گیا اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جس میں امیدوار سراج رئیسانی سمیت 150 کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلوراور ڈیرہ اسماعیل خان میں پی ٹی آئی امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور کو خودکش حملوں میں شہید کیا گیا۔ جے یو آئی ف کے امیدوار اکرم درانی پر بھی دو حملے ہوئے تاہم وہ محفوظ رہے۔

انتخابی مہم میں دہشتگردی کے واقعات انتہاپسند گروپوں کی جانب سے پیغام قرار دیا جا رہا ہے جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشوروں میں دہشتگردی کے مسئلہ کو حل کے لئے اپنا اپنا لائحہ تجویز کیا ہے وہیں نام بدل کر انتخابات میں حصہ لینے والی کالعدم جماعتوں سے ملک کی بڑی جماعتوں کے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں ہی اپنے موقف کو ریاستی ڈاکٹرائن سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے انتہاپسندوں گروپوں سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حامی ہیں تاہم دہشتگردی سے متاثرہ پیپلزپارٹی ، اے این پی اوربلوچستان میں قوم پرست جماعتیں سابقہ حکومت میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کرتی رہیں۔

پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو جو “پاکستان بچانا ہے” کے نعرہ کے ساتھ انتخابی مہم چلاتے رہے انہوں نے عوام کو” توسیع شدہ نیا نیشنل ایکشن پلان” تشکیل دینے کا عندیہ دیا جبکہ انتخابی دوڑ میں اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ تصور کئے جانیوالی پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان دہشتگرد گروپوں سے مذاکرات میں ہی مسئلہ کا حل دیکھتے ہیں ان کی پارٹی کے اہم رہنما اسد عمر نے انتخابی مہم کے دوران ایک کالعدم دہشتگرد تنظیم کے سربراہ سے ملاقات بھی کی اور ان سے ہونے والی بات چیت سے متاثر ہونے کا عندیہ بھی دیا۔ دوسری طرف سابق نواز حکومت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کالعدم اہلسنت والجماعت پاکستان کے رہنماووں سے ملاقات کی اور انتخابات میں حمایت حاصل کی۔

پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پالیسی اسٹیلشمنٹ کے زیر اثر ہی بنتی رہی ہے اور سیاسی حکومتوں کو اپنی مرضی کی پالیسی بنانے میں اسٹیبلشمنٹ کی مزاحمت کا سامنا رہا ہے جس کے باعث دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ڈھکے چھپے الفاظ اور جبکہ ترقی پسند سیاسی جماعتیں کھلے انداز میں دہشتگردی کیخلاف جنگ بارے پالیسی سازی میں اسٹیبلشمنٹ کے دباو کو کھلے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس تنقید کے باعث سابق حکومتوں کے وزراء کو اپنے عہدوں کی قربانی دینی پڑی جبکہ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دفاعی اداروں کی پارلیمنٹ کو عزت نہ دینے پردفاعی کمیٹی سینیٹ کی رکنیت سے استعفی بھی دیا۔

تاہم عوام دہشتگردی سے نجات چاہتے ہیں یہی وجہ رہی کہ کالعدم قرار پانے کے باعث نام بدل کر انتخابات میں شامل انتہاپسندانہ نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم میں پذیرائی نہیں مل سکی۔

بدعنوانی الزامات اور عوامی ردعمل

الیکشن 2018 کی انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف ، انکی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو پاناما سکینڈل کی تحقیقات کے نتیجہ میں آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کے الزام میں عدالتوں سے سزا ، نااہلی اور جیل پہنچنے ،سندھ سے پیپلزپارٹی امیدواروں کی نااہلی، سابق صدر آصف علی زرداری ،انکی بہن فریال تالپور پر منی لانڈرنگ الزامات ، عمران خان کی خیبر پختونخوا حکومت کے میگا کرپشن سکینڈل سامنے آنے کے باعث کرپشن کا موضوع سیاست پر چھایا رہا۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما انتخابی مہم میں ایک دوسرے کی کرپشن پر طعنہ زنی تو کرتے رہے تاہم عمومی طورپر عوام میں یہ خواہش تو پائی جاتی ہے کہ ملک سے کرپشن ختم ہو مگر مجموعی معاشرتی رجحانات میں امید نہیں کہ سیاسی جماعتیں یا عوام اس مسئلہ کوحل کرنے میں سنجیدہ ہوں کہ انتخابات میں ووٹ بک بھی رہے ہیں اور مفادات کے تحفظ کے وعدوں پر امیدواروں کو حمایت دینے کے اعلانات بھی ہورہے ہیں۔

انتخابی سیاست کا منفی رخ اورعوامی ردعمل

انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کا زور اپنے زیر حکمرانی وفاقی اورصوبوں حکومتوں کے کارناموں کو سیاسی حریفوں کی ناکامیوں کے ساتھ مشتہر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم میں ماسوائے ایک دو میڈیا اشتہاروں کے علاوہ مخالفین کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا جبکہ چئیرمین بلاول بھٹواور عوام کودرپیش مسائل بارے سنجیدہ پیغامات پر مبنی اشتہارات کو پذیرانی ملی وہیں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے ایک دوسرے پر میڈیا تنقیدی اشتہارات روایتی منفی سیاست کا آئینہ دار دکھائی دی۔

انتخابات جہاں کسی قوم کی سیاسی ارتقاء کا بیرو میٹر ہوتے ہیں وہیں سماجی اخلاقیات کے عکاس بھی ہوتے ہیں اور سماجی و سیاسی تربیت کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم یہ الیکشن 2018 ء کی انتخابی مہم کا افسوسناک پہلو یہ رہا کہ دنیا کے سامنے پاکستانی سیاست کا جو چہرہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے رہنماووں کی تقریروں اور ریلیوں میں سامنے آیا پاکستان میں سیاسی وسماجی رویوں کی کوئی اچھی تصویر کشی نہیں کر پاتا اگر بلاول بھٹو کی صورت میں ایک مثبت چہرہ انتخابات میں سامنے نہ ہوتا۔

اور جلسوں میں گالم گلوچ سے عوامی سطح پر منفی تاثر قائم ہوا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور ن لیگ کے سابق سپیکر قومی اسمبلی کو الیکشن کمیشن میں اس بد تہذیبی اور بدزبانی پر معافی مانگنا پڑی جبکہ عمران خان کی جانب سے سیاسی مخالفین کو گدھا ، احمق اور بیوقوف قرار دینے سے انکے پاور شو فلاپ ہوئے کہ عوام کی انکے جلسوں میں دلچسپی کم ہو تو دوسری طرف مردہ قرار دی جانیوالی پیپلزپارٹی کے جلسے اور ریلیاں پرہجوم دکھائی دیں۔ جبکہ بدترین سیاسی مخالفین بھی پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کو سراہنے پر مجبور ہوئے۔

صحت ،تعلیم وترقی 

سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشوروں میں عوام کی ترقی کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں- پیپلز پارٹی نے ” روٹی ،کپڑا اور مکان / علم ،صحت ، سب کو کام ” کے نعرے کے ساتھ غربت مٹاءو کا ایجنڈا دیا ہے پیپلزپارٹی ملازمتوں کی فراہمی ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وسیلہ حق ، وسیلہ تعلیم ، وسیلہ روزگار جیسے پروگرام شامل تھے جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا 2008 انتخابات میں انتخابی منشور تھا اور پیپلزپارٹی نے اس پر عمل بھی کر دکھایا کہ اس کی افادیت کے باعث مسلم لیگ ن کی حکومت بھی اس پروگرام کو جاری رکھنے پر مجبور رہی۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی منشور میں خواتین ، کسانوں اور نوجوانوں کے لئے اسی پروگرام کو توسیع دینے کا منشور دیا ہے ، پیپلزپارٹی انتخابی مہم میں سندھ میں صحت اور تھر ریگستان میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا بھی کریڈٹ لیتی رہی اور گذشتہ پانچ سال جو پراپیگنڈہ تھر میں اموات سے ہوتا رہا مثبت انداز میں اس کو تلف کرنے میں کامیاب رہی۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے چئیرمین نے اپنے انتخابی منشور میں افرادی قوت پر سرمایہ کاری کو اولیت دی ہے اور نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے ، صحت اور تعلیم ، کرپشن کے خاتمے کے لئے اصلاحات کا ایجنڈا دیا ہے مگر خیبر پختونخواہ کی گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں جن دعووں پر گذشتہ سالوں میں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی اس کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ بی بی سی کو حالیہ انٹرویو میں عمران خان گذشتہ انتخابی منشور کے خیبر پختونخواہ میں عملدرآمد کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ عمران خان پچھلے پانچ سال کے پی پولیس ، صحت اور تعلیم کے شعبہ میں کامیابیوں کے دعوے تو کرتے رہے زمینی حقائق برعکس نکلے ، وزیر اعلی ہاوس تو یونیورسٹی بنانا درکنار پورے صوبے میں کوئی نیا تعلیمی یا صحت کا ادارہ قائم نہیں ہوا اور تعلیمی نظام کی بہتری کا بھانڈا حالیہ نتائج نے پھوڑا تو خیبر پختوخوا کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کے بعد دو درجن سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے پر مجبور ہونے نے کپتان کی صادق اور امین قیادت دینے اورکرپشن کے میگا سکینڈلز سامنے آنے پر خٹک حکومت کی کارکردگی کا پول کھل گیا۔ جھوٹ کے پول کا ڈھول بجنے پر نوجوانوں اور خواتین میں بھی پی ٹی آئی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جس کا واضح ثبوت انتخابی جلسوں میں شمولیت کی کمی تھی۔

دوسری طرف مسلم لیگ نواز جس کے سربراہ و سابق وزیراعظم آمدن سے زائد اثاثےبنانے پر جیل پہنچ گئے اپنے میگا ترقیاتی منصوبوں کو توسیع دینے کے ایجنڈے لئے انتخابات میں ہے ۔ نواز شریف کی حکومت کے گو کہ میگا کرپشن سیکنڈل زیر تفتیش ہیں تاہم مسلم لیگ ن کے ترقیاتی منصوبے ، تعلیمی نظام ، شاہرات اور صحت کے اداروں کی بہتری دکھائی تو دیتی ہے ۔ تاہم وسائل کو وسطی پنجاب کے بڑے شہروں محدود رکھنے کے باعث مسلم لیگ ن کو جنوبی اور شمالی پنجاب میں دباو کا سامنا ہے۔

یہ ایک معروضی تجزیہ ہے پاکستان کے عوام اب اکیسویں صدی میں تشکیل پاتے گلوبل ویلج کا حصہ ہیں انٹرنیٹ سے لیس انڈرائیڈ فون ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جو سنسر شپ اور سیاسی جبر میں بھی انہیں اطلاعات تک رسائی یقینی بناتی ہے اور انکی واقعات کے تجزیہ اور قطعی فیصلے کا شعور بہتر کرتی ہے جس کا اظہار وہ پچیس جولائی کے انتخاب میں کرینگے۔ بلاشبہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں مگر پاکستان میں انتخابی دھاندلی کی ایک تاریخ ہے اور عوام کو اپنی مرضی کا نمائندہ منتخب کرنے کے حق کی سیاسی جدوجہد ابھی جاری ہے ۔ پچیس جولائی کو عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق حاصل کرنے کے لئے بھی ووٹ دینگے۔