فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سندھ میں سیاسی نمائندوں کے خواتین پولنگ اسٹیشن جانے پر پابندی، پی پی کا اظہار تشویش

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم : پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل فرحت اﷲ بابر نے ایک بیان میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ اندرونی سندھ میں خواتین پولنگ اسٹیشنوں پر سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو نگرانی سے منع کر دیا ہے اور اس طرح پولنگ اسٹیشنوں کو پولنگ کے عملے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چونکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین سیاسی کارکنوں کی کمی ہوتی ہے اس لئے سیاسی پارٹیاں اور امیدوار اتفاقِ رائے سے خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پر مرد پولنگ ایجنٹس نامزد کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک ہی علاقے اور برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ انتخابات سے صرف دو دن قبل ایسی پابندی کیوں لگائی گئی۔ اگر یہ ضروری ہی تھا تو الیکشن کمیشن کو کم از کم کئی ماہ قبل ہی یہ آرڈر نکالنا چاہیے تھا تا کہ امیدوار اور سیاسی پارٹیاں خواتین پولنگ ایجنٹس کو تربیت دیتیں کہ انتخاب کے روز کن باتوں کا خیال رکھا جائے اور نگرانی کس طرح کی جائے۔ یہ اچانک آرڈر اب پولنگ اسٹیشنوں کو الیکشن کے عملے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کر سکتے ہیں اور ان پر کوئی نگرانی نہیں ہو گی۔ آرمی کا جو نمائندہ وہاں تعینات ہو گا وہ اس علاقے کی خواتین ووٹروں کو بالکل ہی نہیں جانتا ہو گا۔ اگر ایک اجنبی شخص کو وہاں تعینات کیا جا سکتا ہے تو امیدوار اور سیاسی پارٹیوں کے اتفاقِ رائے سے وہیں کے مقامی مرد کو خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پر کیوں پولنگ ایجنٹ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ نیا آڈر مقبول سیاسی پارٹی کے خلاف ہے اور یہ پری پول رگنگ ہے۔ پی پی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن یہ آرڈر واپس لے اور ماضی کی طرح خواتین پولنگ اسٹیشنوں پر مرد امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے اتفاقِ رائے سے پولنگ ایجنٹ کی اجازت دے۔