فیس بک پیج سے منسلک ہوں

این آر او میں کردار نہیں تھا,الزام ثابت نہ ہوا,عدالتوں سے رہائی ملی۔ زرداری

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم :پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ این آر او کو قانون بنانے میں انکا کوئی کردار نہیں تھا۔ فوجداری مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کرنے پر رہائی ملی۔

سپریم کورٹ میں قومی مصالحت آرڈیننس (این آر او) کے حوالے سے دائر مقدمے میں سابق صدراور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے جواب جمع کرادیا۔

آصف علی زرداری کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ این آر او کو قانون بنانے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔  این آراو قانون کے تحت  سال 2007 میں مقدمات واپس لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم جب عدالت نے این آر او کو کالعدم قرار دیا تو واپس لیے گئے مقدمات دوبارہ کھول دیے گئے تھے، انہوں نے اپنے جواب میں مزید بتایا کہ انہیں فوج داری مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کرکے رہائی ملی۔

آصف زرداری کا اپنے جواب میں کہنا تھا کہ ان پرخزانے کولوٹنے، اور ملک کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا۔

سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے جواب میں آصف زرداری نے بتایا کہ میرے خلاف مخالفین نے سیاسی مقدمات بنائے تھے، جو دراصل مجھے اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔

فیروز شاہ نامی شہری نے سپریم کورٹ میں ملک کے سابق صدور آصف علی زرداری اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف این آر او کے ذریعے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہچانے کے حوالے سے پٹیشن دائر کی تھی۔

اس ضمن میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کے صدر فروز شاہ گیلانی کی جانب سے دائر پٹیشن میں فریقین کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے آئین معطل کیا اور این آر او کا اعلان کیا، جس کے تحت آصف علی زرداری اور دیگر سیاست دانوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔فیروز شاہ گیلانی نے پٹیشن میں عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ غیر قانونی طریقے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جس کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں پہلے سے ہی فیصلے موجود ہیں۔