شہباز ، عمران، زرداری اقتدار کے لئے کس پر نظر جمائے؟

خلائی مخلوق سیاست کا مرکز و محور ہے۔ خلائی مخلوق جسے سیاسی قیادتیں اشاروں کنایوں میں اقتدار بانٹنے کے کردار کی حامل قرار پا رہی – اب تک خلائی مخلوق کی سامنے والی تعریفوں سے یہی نتیجہ نکلاتا ہے کہ یقینا طاقت کے سر چشمے عوام سے اسکا تعلق نہیں بنتا جسے سیاسی قیادتیں اپنے جیالے، متوالے او سدھائے ہوئے ٹائیگرز کے خطاب دیکر اپنی ڈگڈی پرنچائے رکھتے ہیں۔

جس خلائی مخلوق کا ذکر تو نواز شریف نے شروع کیا اور اپنے حامیوں کو آگاہ کیا کہ ان کا مقابلہ سیاسی حریفوں سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہے تاہم اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہی خلائی مخلوق نواز شریف کے سیاسی حریفوں کا ہدف بیاں بازی بنی توپتہ چلا کہ عمران خان اور آصف علی زرداری کی خلائی مخلوق اصل میں ایک ہی سیارے سے متعلق ہے ۔

آصف علی زرداری نے خلائی مخلوق کی وضاحت میں اصغر خان کیس کا ذکر کرتے ہوئے حمید گل اور اس معاملہ میں نواز شریف کے کردار کا بھی حوالہ تو دیا جس پر سپریم کورٹ نوٹس لے چکی مگراین آر او کا ذکر کرنا شائد سہواّ بھول گئے جس کا نوٹس چیف جسٹس پاکستان لے چکے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ این آر او کن کن مخلوقات کے درمیان ہوا تھا۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے نے نواز شریف سے زیادہ واضح انداز میں خلائی مخلوق کے گذشتہ انتخابات میں کردار کی وضاحت کرتے ہوئے آراوز کی طرف انگلی اٹھا دی۔ جس پر الیکشن کمیشن کو خلائی مخلوق کا انتخابی مہم میں ذکر ہی غیر آئینی قرار دینا پڑ گیا۔

عمران خان کی کسی ” یک ستارہ خاکی افسر” کی آروز کو انتخابی نتجائیج ڈکٹیٹ کرانے کا بیان آن ریکارڈ ہے جبکہ نواز شریف کی الیکشن 2013ء کے نتائج کی رات والی شہرہ آفاق تقریر میں اکثریت دینے کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے تو یہی نتیجہ اخذ ہوتا۔ سیاسی قیادتوں کے بیانیہ نے قوم کو یہی عندیہ دیا ہے کہ اقتدار میں لانے کی طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں خلائی مخلوق ہے ۔

آصف علی زرداری اور عمران خان نے گذشتہ اڑتالیس گھنتوں میں جو بیانیہ قوم کے سامنے رکھا ہے اس میں انہوں نے خلائی مخلوق کو نئے جمہوری اقتدار کی تشکیل کے اپنے اپنے فارمولے تجویز کئے ہیں۔ عمران خان نے آزاد امیدوار زیادہ جتوا کر اقتدار میں انہیں لانے کا فارمولا دیا ہے جبکہ آصف علی زرداری کا کہنا تو یہ ہے کہ ان کے لئے حکومت میں رہنا کوئی نئی بات نہیں ہوگی،حکومتیں کر کے دکھائی ہیں، وزیراعظم ہاوس بھی دیکھا اور ایوان صدر بھی دیکھ چکے ہیں۔ مگر ساتھ ہی اقتدار میں آنے کی خواہش سے بے چین ذرداری شراکت اقتدار کے لئے اس عمران خان سے اتحاد کے لئے بھی تیار ہیں جسے بلاول بھٹو زرداری ” طالبان کا بچھڑا بھائی” قرار دیتا آرہا۔

آصف علی زرداری پی ٹی آئی سے شراکت اقتدار کے لئے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی اور پی پی اتحاد کی مثال دیتے ہوئے جواز دے رہے ہیں کہ ایسا پہلے بھی تو ہو چکا ۔ تاہم عمران نے زرداری کی اتحاد کے لئے خواہش کو انکی غلط فہمی قرار دیکر رد کردیا اور صاف جواب دیدیا کہ کسی بھول میں نہ رہیں جب تک پیپلزپارٹی کا صدر آصف علی زردای ہے وہ اتحاد نہیں کر سکتے۔

مسلم لیگ ن کے تاحیات سپر مین قائد نواز شریف تو واضح عندیہ دے رہے کہ وہ یا انکی جماعت خلائی مخلوق کی منظور نظر نہیں رہی۔ تو اس کا مطلب شہباز شریف کے” مشن بحالی تعلقات” کی ناکامی کا عندیہ ہی ٹھہرتا۔ اقتدارکا سنگھاسن ملنے کی امید لگائے عمران خان کی خواہش ہے کہ آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کی بجائے بلاول بھٹو زرداری کی پیپلزپارٹی سے ان کا اتحاد ہو ، یعنی مائنس زرداری پیپلزپارٹی انکی اتحادی ہو۔ جبکہ پیپلزپارٹی کی قیادت آنے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے پلیٹ فورم سے حصہ لے رہی ہے جس کے سربراہ آصف علی زرداری ہیں, یعنی بلاول بھٹو کو نئی سیاست میں بھی قیادت کا کردار فی الحال آصف علی زرداری دینے کو تیار نہیں۔ پھر بلاول کے عوامی جلسوں میں بھاشن  والے بیانیئے اور وعدے  ڈبیٹنگ کلب جسی تقریر سے کچھ زیادہ قرار پاتے ؟

قبل ازیں پیپلزپارٹی یہی عندیہ دیتی رہی کہ کسی سے انتخابی اتحاد نہیں بنائے گی مگرسیاستدان اپنے بیانیئے اقتدار کی منزل کے سفرمیں ہوا کے رخ پر مطالبوں کو ترلوں میں بدل سکتے ہیں اگر خلائی مخلوق انہیں بلا شرکت غیرے اقتدار دینے کے حق میں دکھائی نہیں دے رہی ہو۔