غیر جمہوری حکایت : لاہور اے ۔۔۔۔ لاہور اے

غیر جمہوری دور تھا۔ غیر جمہوری سیاست کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی۔  پنجاب میں آمر کی آشیر باد رکھنے والی جماعت کی حمایت کے لئے مہم چلائی گئی ۔ بسوں کے اڈے پر ہاکری کرنے والا  جو کنڈیکٹر بنا اور پھر پشاور آنے جانیوالی بسوں میں مبینہ دھندوں کے نتیجہ میں ٹرانسپورٹر اور پھر پیسے کی بنیاد پرغیرسیاسی نام نہاد جمہوری دھندے میں مقامی سطح پر حصہ دار بھی بن گیا تھا، بنائے گئے لیڈر کی مشہوری کا ذمہ بھی لگا ہوا تھا جس کے لئے وہ میڈیا میں لیڈر کی شان میں قصیدہ گوئی کرتا۔

سیاسی جماعت کی تشکیل شروع ہوئی تو اس ٹرانسپورٹر کو بھی  جماعت میں شہر کے سیاسی کارکنوں کی شمولتیوں کا ٹاسک سونپا گیا ٹرانسپورٹر کو وختا پڑ گیا، اڈے کے اپنے دانشوروں سے مشورہ مانگا تو مفت خوروں نے جوابا سیدھا کہہ مارا “چوہدری دماغ ای کم نئیں کردا پیا ، کوئی سیگٹ شگٹ تخا تے ہوش آوے”۔

چوہدری نے اپنے دانشوروں کی ٹیم کے لئے “سگیٹ پانی” کا انتظام کیا، دانشوروں کیدھواں دھار بحث ہوئی,دانشور دلیلیں دے رہا تھا۔

” چوہدری توں سب نوں کمی ای سمجھدا ، ایہ جیرا، ماجھا ، پیجا ، فیکا ، سحانا ، اپنے پنڈ وچ کی عزت نئیں ، ساری برادری اینوں صاحب آکھدی ، ایدے کہن تے ای تیرے کونسلری دے الیکشن وچ بندے آوندے رہے خرچہ پانی بہویں دے لوکی فیر وی نئیں اوندے جلسیاں وچ، تینوں تے پتا ، مال کھا کے ایدھر اودھر ہو جاندے جسلیاں چوں”۔

چودھری سن رہا تھا اور دانشوردھواں بھرا سگریٹ اڑاتا اپنا لیچکر جاری رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔

” تے انجن وی تیرے لیڈر نوں کہیڑا پتہ ایناں پنڈاں دا، اونہے کیہڑا تفتیش کرانی ؟ بندے ڈھو دے، گڈیاں تیریاں اپنیاں کھان نوں لیڈر کجھ دے ای دیوے گا انج وی او بڑا مہماندار آ سنیا، توں اپنی جمیداری پوری کر، اپنی عجت بچا ، الیکشن ہووے گا تے لیڈر جانے اودا کم جانے ، اوہ کیہڑا تیری آس تے لیڈر بنیا ہوئیا ، آپو وی تے کجھ ہتھ پیر ماردا ہونا، کھیہ دا لیڈر جے لوکی ووٹ دین نوں ای تیار نہ ہون ۔

مسئلہ حل ہو گیا، ٹرانسپورٹر نے اپنے اڈے کے ہاکر ، مالشئیے ، میدا ، سجو ، کھبو انکی برادریوں کے چوہدری بنا کر نئی جماعت میں شمولیت کے لئے بسوں میں لاہور ڈھونے شروع کر دئیے، لیڈر کے ساتھ فوٹو بھی بنواتے جو اخباروں میں بھی شائع ہوتیں، ٹرانسپورٹ اڈے پر اور پنڈ کی منڈلی میں لیڈر کیساتھ ضیافت اہتمام سے کروانے کے چرچے کرتے۔

ٹرانسپورٹر کے اپنے یار جو مخالف جماعت میں تھے بیانات میں اسکے لیڈر کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے ، لیڈر نے اسے ان کے لتے لینے کا کہا تو ٹرانسپورٹر نے سیدھا کہہ دیا کہ ” لتے لینے کے لئے کتا کسی دوجے شہر دا لبھو میں عحت نئیں گنوانی”۔

نوٹ : اس حکایت سے ہدایت پکڑنا ضروری نہیں۔ یوں بھی عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور لاہور شہر میں سیاسی جماعتوں کی قیادتیں اپنی مقبولیت دکھانے کے لئے ،پارٹی میں ممتاز شخصیات کی شمولیت کا ٹاسک پارٹیوں کے مقامی رہنماووں کو دے چکی ہیں ۔