انتخابی مہمات: کون کیا کھو رہا ,کیا پا رہا؟

مسلم لیگ ن کی حکومت آخری بجٹ پیش کر چکی ہے۔ نگران حکومت کی تشکیل حکومت اور اپوزیشن کے لئے اگلا ہدف ہے ۔ موجودہ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے میں اب صرف تین ہفتے باقی رہے گئے ہیں۔ ن لیگ حکومت کا آخری بجٹ پیش ہوتے ہی ملک میں انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیاہے مگر انتخابات کا بروقت انعقاد ابھی تک سوال بن کر ابھر رہا ہے۔

وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے ایک ہی روز ویک اینڈ پر اپنی انتخابی مہمات کا آغاز کیا۔ بلاول نے پاور شو کے لئے کراچی کا انتخاب کیا تو عمران خان نے مینار پاکستان کو اپنا انتخابی منشور اعلان کرنے کے لئے چنا جہاں وہ اپنی سیاسی کیرئیر کا تاریخی جلسہ کرنے کا کریڈٹ رکھتے ہیں تاہم عمومی تاثر ہے کہ اس جلسہ کو تاریخی بنانے میں پس پردہ قوتوں کا کردار رہا۔

کراچی جہاں ماضی میں راج کرنے والی ایم کیو ایم چالیس برس بعد لندن گروپ ، بہادرآباد گروپ ، پی آئی بی کالونی گروپ ، سرزمین پارٹی اور حقیقی کی دھڑوں میں منقسم ہے پیپلزپارٹی اردو بولنے والے ووٹ بنک سے متبادل قیادت کے طور پر قبولیت حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔ پیپلزپارٹی کا کا ایم کیو ایم کے گڑھ لیاقت آباد گراونڈ میں چالیس برس بعد قابل دید جلسہ تھا جس ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو نے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی نے لیاقت آباد میں آخری جلسہ 44 برس پہلے کیا تھا جس سے پیپلزپارٹی کے بانی اور بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے خطاب کیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری کا ٹنکی گراونڈ کراچی جلسہ میں اردو بولنے والوں کو دیا گیا بیانیہ مصطفے کمال سے ملتا جلتا ہی تھا جو سرزمین پارٹی کے اعلان پر طویل پریس کانفرنس میں دیا گیا تھا۔ تاہم کراچی میں ایم کیوایم کی مقامی حکومت میں کارکردگی کو بلاول بھٹو نے بھرپوراندازمیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم بلاول کراچی جلسہ میں بھی اپنا زیر تعمیر انتخابی منشور پیش نہیں کرسکے۔

پی ٹی آئی کے مینار پاکستان جلسہ میں عمران خان نے روائتی “موٹیویشنل طرز خطاب” میں پاکستان پندرہ سو سال قبل کی مدینہ جیسی ریاست بنانے کیلئے اپنے گیارہ نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کیا مگر پی ٹی آئی کا گیارہ نکاتی ایجنڈا 2002ء میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دئیے پیپلزپارٹی انتخابی منشورکی طرز پرتیار کیاگیا ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی اور حکمران مسلم لیگ ن نے انہیں گذشتہ انتخابات میں دئیے تیرہ نکاتی انتخابی منشور یاد دلایا جو خیبر پختونخوا میں کہیں عملدرآمد ہوا دکھائی نہیں دیا۔

ویک اینڈ پرانتخابی منشور دیکر تھکاوٹ کے شکار عمران خان نے یوم مئی پر کوئی سیاسی سرگرمی کے بجائے محض ٹوئیٹر پر ایک پیغام جاری کرکے مزدوروں سے اظہاریکجہتی پر اکتفا کیا جبکہ پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یوم مئی پر ایم کیو ایم کو ہدف تنقید رکھا اور بلدیہ ٹاون فیکٹری سانحہ پر جواب مانگا۔ پیپلزپارٹی سندھ میں گذشتہ دس برس سے برسراقتدار ہے مگر تاحال بلدیہ ٹاون فیکٹری سانحہ میں لقمہ اجل بنائے گئے مزدروں کو انصاف نہیں دلا سکی ۔ یقینا اس کا بوجھ پیپلزپارٹی ریاستی اداروں پر لاد کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی پوزیشن میں ہے کہ اس معاملہ میں رینجرز کافی سرگرمی دکھاتی رہی اور ذمہ داروں کے تعین کا بارے دعوے بھی کرتی رہی مگر معاملہ پر ابھی تک کوئی جوابدہ نہیں۔

یوم مئی پر مسلم لیگ نواز کے نومنتخب صدر شہباز شریف یوم مئی پر اپنے منظور نظر رانا ثناء کے پی ٹی آئی جلسے میں شریک خواتین بارے ہرزہ سرائی پرٹوئیٹر پر “پڑھے لکھے پاکستان” سے معافی مانگتے دکھائی دئیے۔ رانا ثناء اللہ کے خواتین سیاسی کارکنوں بارے بیان کو پیپلزپارٹی نے بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ کسی جیالے کی پارٹی اجلاس میں ہوئی گفتگو بارے ” لیک کردہ کہانی” قلم مزدورکی خبر بننے پر پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے سربراہ سابق صدر آصف زرداری بھی یوم مزدورپر اپنی جیالی میڈیا مزدورٹیم سے تردید کی بیگار لیتے رہے کہ یوم مئی پر نواز شریف نے اس لیک خبر پر شدید ردعمل واپس دے مارا تھا۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے جیسے ہی پارٹی کی کمان سنبھالی ، سندھ کے تواتر سیاسی دورے شروع کردئیے تھے جس پر آصف علی زرداری نے بلاول ہاوس لاہور میں ڈیرے ڈال لئے اور یہ حکمت عملی خاصی کارگر رہی، سابق صدر نے لاہور ڈویژن میں پانچ جلسے کرنے کا بھی اعلان کردیا جس کے بعد مسلم لیگ ن کی سندھ پر مزکور توجہ کچھ کم ضرور ہوئی ۔ اصف علی زرداری کی ” ڈیرہ لاہور میں ، شمولیت اختیار کرنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور پیرخیبر پختونخواہ کے “والی حکمت عملی پی ٹی آئی کی مقبولیت کے تاثرکو بھی زائل کرنے کی کوشش ہے۔ پنجاب سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی اہم شخصیات پی ٹی آئی میں شامل ہو رہی ہیں۔ وسطی پنجاب جہاں ن لیگ کی مقبولیت ہے کچھ پیروں اور جنوبی پنجاب کی شخصیات کے علاوہ کسی بڑی سیاسی شخصیت کوزرداری پارٹی میں لانے کے لئےمتاثر نہیں کرسکے۔

پیپلزپارٹی کی اندرون سندھ میں انتخابی مہم بلاول اور کراچی میں چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو چلا رہی ہیں۔ جبکہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں آصف علی زرداری خود سرگرم ہیں۔ انتخابات 2013 اور بعد ازاں ضمنی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدوار انتخابی مہموں میں اپنے پارٹی سربراہ سابق صدر کی تصویر آویزاں کرنے سے کتراتے تھے کہ آصف علی زرداری کا ایک منصوبے کے تحت عوام میں شخصیت غیر مقبول بنا دیا گیا تھا، تاہم اس نئی حکمت عملی میں آصف علی زرداری کم از کم اپنا مسخ شدہ ساکھ پارٹی اور عوام میں بحال کرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں کہ اب پارٹی میں انکی تصویر انتخابی پوسٹروں پر لگانے کی مخالفت نہیں اور عوام میں انہیں “سمارٹ سیاستدان” کی نئی پہچان مل رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں اپنے مستقبل بارے بے یقینی کے شکارمسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ ساہیوال جلسے میں ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دیتے ہوئے جہاں پی ٹی آئی کے سربراہ کو پچھلے انتخابات میں دیا تیرہ نکاتی منشور یاد دلاتے رہے وہیں عدلیہ کی انتظامی معاملہ پر مداخلت کو ہدف تنقید بناتے رہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے نومنتخب سربراہ شہباز شریف بھی احتساب کے دوہرے معیار کو ہدف تنقید بناتے دکھائی دئیے مگر ان کی تنقید پنجاب حکومت کے اداروں میں احتساب اداروں کی مہم بارے تھی۔

گو کہ فضل الرحمان اور سراج الحق نے ایم ایم اے کو بحال تو کر لیا مگر مولانا سمیع الحق دینی جماعتوں کا نیا اتحاد بنانے کے لئے کوشاں ہیں جو تحریک انصاف کی طرف جھکاو رکھتا ہوگا۔ عمران خان نے جامعہ حقانیہ کو خیبر پختونخواہمیں مدارس کو جدید بنانے کے نام پر صوبائی بجٹ کا حصہ دار بنا دیا تھا بعین معاملہ سندھ میں بھی ہوا جہاں بلاول بھٹو کے اعلان پر عمل کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نے دعوت اسلامی تنظیم کو سینکڑوں ایکڑ اراضی الاٹ کردی ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی میں شمولیت کرنے والے مذہبی رہنماووں میں زیادہ تعداد بریلوی یا شیعہ مسلک سے ہے۔ تاہم ن لیگ کے سربراہ شہباز شریف بھی ایک مدرسے کو جامعہ پنجاب کی زمین الاٹ کرنے کی خواہاں تھی مگر چیف جسٹس رکاوٹ بن گئے جنہوں نے از خود نوٹس لیتے ہوئے جامعہ کا وائس چانسلر ہی تبدیل کردیا۔

سیاسی جماعتوں کی بھرپور سرگرمیوں کے باوجود شہر اقتدار میں انتخابات کا بروقت انعقاد ہنوزسوالیہ نشان لئے ہوئے ہے،نواز شریف کا احتساب عدالت سے متوقع فیصلہ گو کہ وجہ قراردیا جا رہا ہے مگر سیاسی گرما گرمی پرموسم کی گرمی بازی لے جاتی دکھائی دے رہی ہے، پاکستان میں اپریل دنیا بھر میں گرم ترین رہا پیر کے دن سندھ میں درجہ حرارت پچاس ڈگری تک پہنچ گیا موسمیاتی تجزئیے یہی بتاتے ہیں کہ رواں برس گرمی کی شدت ریکارڈ توڑ رہیگی اور شائد آنے والے دنوں میں سیاسی گرما گرمی کے تناظر میں ہونے والے انتخابات کے انعقاد میں کچھ تاخیر کے فیصلے کا جواز موسمی گرمی میں شدت قرار پا جائے۔