فیس بک پیج سے منسلک ہوں

شرح نمو میں جاپان،کوریا اور چین جیسی تیز رفتاری کی ضرورت: مفتاح اسماعیل

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مالی سال2018-19ء کے بجٹ سے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو مالی فائدہ ہوگا اور فاٹا کے پسماندہ علاقوں میں تعمیری ڈھانچہ کو ترقی ملے گی۔ وہ اتوار کو انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹس پاکستان کے زیر اہتمام قومی بجٹ سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔

مفتاح اسماعیل  نے کہا کہ اس بجٹ کے ساتھ میری خواہش ہے کہ عوام کیلئے زندگی میں آسانی پیدا ہو اور اقتصادی ترقی کی رفتار میں اضافہ کے ذریعہ کاروبار پھلیں پھولیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال مجموعی ملکی پیداوار جی ڈی پی کی ترقی کی شرح5.8 فیصد رہی جبکہ اس سے قبل یہ شرح5.4 فیصد تھی اور مالی سال 2018-19ء کیلئے جی ڈی پی کا ہدف 6.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کو مسلسل تیز رفتار بڑھنے کی ضرورت ہے جو کے جاپان،کوریا اور چین نے کیا اور دہائیوں سے بلند ترین نمو کی شرحوں پر برقرار نہیں‘ ہماری شرح نمو بنگلہ دیش اورسری لنکا سے کم ہے ہم اسے 7 فیصد سے بھی آگے لے کر جانے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5.8 فیصد جی ڈی پی کی شرح کا تخمینہ پاکستان شماریات بیورو نے لگایا اور عالمی بنک آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے اس کی تصدیق کی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ تجاویز کے مطابق ٹیکسز کم ہوئے ہیں لیکن اس بات کو لازم بنایا گیا ہے کہ اگر لوگ مہنگی جائیداد اور گاڑی خریدنا چاہتے ہیں تو فائلر بنیں۔یہ اقدام سفید دستاویز معیشت کا حصہ بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔کوئی بھی شخص40 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد یا نئی اور درآمد شدہ گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو اسے موثر ٹیکس دہندہ بننا ہوگا۔ یہ اقدامات پاکستانی معیشت کی ہیئت تبدیل کرکے رکھ دیں گے۔انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا طریقہ کار انتہائی سادہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان بالخصوص تنخواہ دار طبقہ کیلئے ٹیکس کی شرح کم کردی گئی ہے ٹیکس کی شرحوں کو کم کرکے جائیداد کی خریداری کی درست قیمت ظاہر کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔انہوں نے آگاہ کیا کہ پاکستان کو ایک دوست ملک کی کمرشل بنک سے ایک ارب ڈالر کا طویل المدتی قرض موصول ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ رواں سال میں3935 ارب روپے کے ٹیکس وصول ہوں گے۔ جو گزشتہ برس کے مقابلہ میں 18 فیصد زائد ہوں گے جبکہ آئندہ برس کیلئے ٹیکس ہدف 4435 ارب روپے رکھا گیا جو رواں سال سے11 فیصد زائد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جب معیشت پھلے پھولی گی تو محصولات میں بھی اضافہ ہوگا۔معیشت کی6.25 فیصد شرح نمو کے مقابلہ میں افراط زر کی شرح6 فیصڈ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس میں کمی کے باوجود محصولات کے حصول کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکسز کا52 فیصد بندرگاہوں پر درآمدات کی آمد سے اکٹھا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ای آئی ممبرز کو تمام قانونی طور پر درآمد کئے گئے موبائل فونز سے میچ کیا جائے گا جو ٹیلی کام آپریٹرز کے نیٹ ورکس سے منسلک ہوں ۔اس اقدام سے فون کی چوری اور سمگلنگ کی روک تھام اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔ مختلف اشیاء کی درآمد اور خریداری پر سیلز ٹیکس کی شرح5 فیصد کم کردی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ بیرون ملک سے99.8 فیصد ترسیلات زر وصول کرنے والے افراد سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا تاہم100 ملین روپے سے زائد کی ترسیلات زر وصول کرنے والے سے فنڈز کے ذرائع کی وضاحت طلب کی جائے گی ۔انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک ماہ قبل مجھے وزیرخزانہ بننے کیلئے پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ڈالر کی قدر کو مصنوعی طور پر 3سال تک کم سطح پر رکھا گیا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا جس سے درآمدات کے اضافہ کے مقابلہ میں برآمدات میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 24ارب ڈالر تھیں اور اس کا 12ارب ڈالر تیل کی درآمدات کے لئے استعمال کیا گیا۔ ہمیں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے، سرمایہ میں اضافہ اور برآمدات زیادہ تیزی سے بڑھانے کی ضرورت ہے تا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پر قابو پایا جا سکے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت 100فیصد بچوں کو سکول بھجوانے کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گی۔ سکولوں میں بچوں کے داخلہ کے پروگرام کے لئے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تا کہ اس عذر کو ختم کیا جا سکے جس کی وجہ سے 40فیصد بچے متاثر ہیں۔ مزیدبرآں قبائلی علاقہ جات میں سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے لئے 100ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قوت خرید کی مسابقت کی بنیاد پر پاکستان 25ویں بڑی معیشت ہے اور گزشتہ 5سال میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی بصیرت کی روشنی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نیشنل گرڈ میں 12ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی، سڑکوں کے جال بچھائے اور صنعتوں، کاروباری اور گھریلو صارفین کے لئے گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا۔