فیس بک پیج سے منسلک ہوں

دہشتگردی کے شکار سویلین افراد کی بحالی کا منصوبہ بنایا جائے :فرحت اللہ بابر

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم:پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے شکار سویلین افراد کے لئے بحالی کا منصوبہ بنایا جائے جس کی بنیادی ڈرون کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے سارے پاکستانیوں کی تعداد ظاہر کرنے، PAF کے قبائل علاقوں میں حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی مکمل تفصیل ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میںفوجی اپریشنوں میں نام نہاد کولیٹرل نقصان کی تفصیل حراستی مراکز میں زیر حراست لوگوں کی صورتحال اور ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کی مکمل تفصیل شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو صرف اعدادوشمار اور کولیٹرل نقصان کی کی بجائے قابل عزت شہری سمجھا جائے۔

یہ بات انہوں نےI-SAPS کی جانب سے نتھیا گلی میں کرائے گئے ایک سیمینار میں کی جس کا موضوع دہشتگردی کے سویلین شکار کے بارے قانون سازی تھا۔ انہوں نے اس بات کی مذمت کی کہ ان موضوعات پوچھے گئے پارلیمانی سوالات کے جواب کبھی نہیں دئیے گئے اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے روکا جائے۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ جیسی تحریکوں کو روکا جا سکے۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب اِن دی لائن آف فائر میں اعتراف کیا ہے کہ سینکڑوں مبینہ دہشتگردوں کو اس نے لاکھوں ڈالر کے عوض سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔ فرحت اللہ بابر نے پوچھا کہ ان میں سے کتنے پاکستانی قبائل تھے، ان کے خلاف کیا الزامات تھے اور انہیں ایک غیرملک کے حوالے کرنے سے پہلے مناسب طریقہ کار کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور ریگولیشن 2011ءمیں لاگو کیا گیااور اسے 2008ءسے موثر بہ ماضی کیا گیاتاکہ سکیورٹی ایجنسیاں ان قبائلیوں کو مرکز عام پر لائیں جو حراستی مراکز میں زیر حراست رکھے گئے ہیں تاکہ ان پر عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں تاہم کسی کو معلوم نہیں کہ کتنے ایسے حراستی مرکز بنائے گئے، ان میں کتنے مبینہ دہشتگرد رکھے گئے اور زیرحراست کتنے لوگون کی اموات ہوئیں اور کی ان پر عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سویلین کے جاں بحق ہونے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کا نوٹس بہت کم لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر پوری قبائلی عوام کو بے عزتی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اس کا اب تک اعتراف بھی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جلد یا بدیر قبائلیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ نے ذاتی نقصانات تو پورے کئے ہیں لیکن عوام کی زندگی کے نقصانات کے ازالے کے لئے کوئی اداراجاتی انتظام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نقصانات کا معاوضہ دینے کی ذمے داری پاکستانی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس بات کی اجازت دینا کہ پاکستانی قبائلیوں کی زندگی کی قیمت صفر لگائی جائے اور اس جنگ کا شکار ہونے والوں کے ازالے کا مطالبہ نہ کرنا جرم ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ مئی 2013ءمیں پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ڈرون حملے غیرقانونی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت معاوضہ دینے کی پابند ہے اور حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ اٹھائیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اس بارے کوئی پیشرفت کی گئی۔ سینیٹ نے بھی گزشتہ دسمبر کے مہینے میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی تھی جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت 2000ءسے لے کر اب تک ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کا معاوضہ ادا کرے۔ اس قرارداد کی نقول اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، نیٹو، یوروپین یونین، ایشین پارلیمانی اسمبلی اور کامن ویلتھ کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015ءمیں صدر اوبامہ نے اعتراف کیا تھا کہ ڈرون حملوں میں پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس پر معافی بھی مانگی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ شہریوں کی زندگی کے ضیاءکی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ یمن، عراق اور افغانستان نے ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں اعلانیہ اور غیراعلانیہ دونوں طور پر معاوضہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق 40ملین ڈالر کی رقم سے پاکستانی سویلین اسسٹنٹس فنڈکچھ وقت پہلے قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ کہا یہ رقم ڈرون حملوں کے شکار شہریوں کے لواحقین تک پہنچا دی گئی ہے؟