فیس بک پیج سے منسلک ہوں

بجٹ کریڈٹ مفتاح کو دینے کا معاملہ ،رانا افضل نے گولی نگل لی کرواہٹ اگل دی

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم: وفاقی بجٹ پیش کرنے کے معاملہ پر جہاں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے رانا افضل کے بجائے غیر منتخب مفتاح اسماعیل کو ترجیج دینے پر تنقید کی وہیں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے مفتاح اسماعیل سے قومی اسمبلی میں آئندہ بجٹ پیش کرانیکا فیصلہ قبول تو کر لیا مگر کڑواہٹ اگل گئے۔

پارلیمنٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے جس طرح رانا افصل نے آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کرنے میں اپنی کاوشیں گنوائیں، لگتا ہے کہ انہوں نے فیصلہ گولی کی طرح نگل تو لیا مگر ان کا اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے قومی اسمبلی میں انہیں بجٹ پیش کرنے کا موقع دئیے جانے بارے موقف کی جانب اشارہ تھا۔ رانا افضل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کی حکومتی بنچز کے حق میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا، واک آؤٹ کیا۔

رانا افضل خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے سے متعلق پارٹی نے جو بھی فیصلہ کیا اس کا احترام کرتا ہوں، میں پانچ سالوں میں قومی اسمبلی کے اسی فلور پر وزارت خزانہ کا چہرہ تھا۔ وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور متوازن ہے، چھٹے بجٹ کی تیاری کیلئے 100 سے زائد اداروں سے بات چیت اور مشاورت انہوں نے کی اور سفارشات تیار کیں۔ رانا افضل نے کہا کہ ہم نے بجٹ دے دیا، اگر آنے والی حکومت اس میں کمی بیشی کرنا چاہتی ہے تو وہ کر سکتی ہے۔