فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کو کیا ملا؟ کس کی تنخواہ اورکس کی مراعات بڑھیں ؟

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم:   وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے قومی بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے مجموعی طور پر 69 ارب روپے مالیت کے جامع ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے بجٹ میں  سول اور فوجی ملازمین کیلئے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور پنشنرز کیلئے بھی 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جبکہ ہاؤس رینٹ سیلنگ اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے گذشتہ 5 سالوں کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ مالی مجبوریو ں کے باوجود سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے مزید ریلیف دیا جا رہا ہے جبکہ اس سال افراطِ زر کی موجودہ شرح 3.8 فیصد ہے۔ یکم جولائی 2018ء سے سول اور فوجی ملازمین کیلئے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ تمام پنشنرز کیلئے بھی یکساں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کیلئے بڑے شہروں میں رہائش ایک سنگین مسئلہ ہے، اس لئے ہاؤس رینٹ سیلنگ کی حد میں 50 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہاؤس رینٹ الاؤنس میں بھی 50 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ کم آمدن والے پنشنرز کی مشکلات کے پیشِ نظر پنشن کی کم سے کم حد کو 6 ہزار سے بڑھا کر 10ہزار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح فیملی پنشن کو بھی 4500 روپے سے بڑھا کر 7500 روپے کیا جا رہا ہے۔ 75سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی کم از کم پنشن 15,000 روپے ماہانہ کی جا رہی ہے۔ سٹاف کار ڈرائیور اور ڈسپیچ رائیڈرز کیلئے اوورٹائم الاؤنس کو 40 روپے فی گھنٹہ سے بڑھا کر 80 روپے فی گھنٹہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کو گھر، گاڑی اور موٹر سائیکل خریدنے کیلئے دیئے جانے والے ایڈوانس کی مد میں 12 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ سینئر افسران پرفارمنس الاؤنس کیلئے 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں، اس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ ان تمام تجاویز کا مجموعی مالی تخمینہ 69 ارب روپے ہے۔