فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وفاقی بجٹ کا ترقیاتی پروگرام: حکومت 20کھرب 43 ارب روپے کہاں خرچ کریگی ؟

اسلام آباد پالیٹکس رپورت / معظم رضا تبسم: آئندہ مالی سال2018-19ء کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا مجموعی حجم 20کھرب 43 ارب روپے ہے جس میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کا حجم 10 کھرب 30 ارب روپے اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 10 کھرب 13 ارب روپے ہے، غیر ملکی امداد کا حصہ ایک کھرب 71 ارب روپے ہے۔
2018-19ء کیلئے سرکاری شعبے میں ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات یہ ہیں:۔
* ہوا بازی ڈویژن کیلئے 4677.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* سرمایہ کاری بورڈ کیلئے 125 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* کابینہ ڈویژن کیلئے 1116.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* آبی وسائل ڈویژن کیلئے 79500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کیلئے 15236.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 802.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* کامرس ڈویژن کیلئے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* مواصلات ڈویژن (علاوہ این ایچ اے) کیلئے 14480.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* دفاع ڈویژن کیلئے 640.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* دفاعی پیداوار ڈویژن کیلئے 2810 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* اقتصادی امور ڈویژن کیلئے 70 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* وفاقی تعلیم و پیشہ وارا نہ تربیت ڈویژن کیلئے 4336.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 175.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* فنانس ڈویژن کیلئے 18151.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* خارجہ امور ڈویژن کیلئے 199.7 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 46679.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* ہاؤسنگ و تعمیرات ڈویژن کیلئے 5433.1 ملین روپے رکھے کئے گئے ہیں۔
* انسانی حقوق ڈویژن کے لئے 300 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* صنعت و پیداوار ڈویژن کے لئے 1775.2 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* اطلاعات و نشریات ڈویژن کیلئے 1664 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ڈویژن کیلئے 3046.3 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3552.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* داخلہ ڈویژن کیلئے 24207.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کیلئے 51205.6 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* قانون و انصاف ڈویژن کیلئے 1025 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* میری ٹائم افیئرز ڈویژن کیلئے 10118.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* انسداد منشیات ڈویژن کیلئے 251.2 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ڈویژن کیلئے 1808 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن ڈویژن کیلئے 25034.4 روپے رکھے گئے ہیں۔
* قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے لئے 550.5 ملین روپے مختص کئے گئے۔
* پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کیلئے 30424.5 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کیلئے 943.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور اصلاحات ڈویژن کے لئے 27590.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
* پوسٹل سروسز ڈویژن کیلئے 370 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* شماریات ڈویژن کیلئے 200 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* ریلوے ڈویژن کیلئے 40000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* مذہبی امور اور بین العقائد ہم آہنگی کے لئے 36 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* ریونیو ڈویژن کیلئے 2558.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کیلئے 2660 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* سپارکو کے لئے 4700 ملین روپے مختص کئے گئے۔
* ریاستیں و سرحدی علاقہ جات ڈویژن کیلئے 2855.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کیلئے 280 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* آبی وسائل ڈویژن کیلئے 79500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* کارپوریشنز کی مد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے 201600 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* این ٹی ڈی سی/پیپکو کیلئے 36125 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں
* وزیراعظم گلوبل ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کیلئے کے لئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* سی پیک منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے خصوصی فراہمی کی مد میں 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* فاٹا 10 سالہ منصوبہ (وفاقی حصہ) کیلئے 10,000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* ایرا کیلئے 8500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* آئندہ حکومت کی طرف سے نئے منصوبہ جات کیلئے مختص کردہ مجموعی رقوم کی مد میں ایک لاکھ ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* آئی ڈی پیز کی امداد و بحالی کے لئے 45000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* سیکورٹی میں اضافہ کیلئے 45000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* وزیراعظم کے یوتھ اقدام کے لئے 10, 000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ کے لئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
* پی پی پی موڈ فنانسنگ (آؤٹ سائیڈ بجٹ) کیلئے 1,00000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔