فیس بک پیج سے منسلک ہوں

59 کھرب 32 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے آئندہ مالی سال 19-2018 کے لیے 59 کھرب 32 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا، جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد یا 18 کھرب 90 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے چھٹے اور آخری بجٹ سے چند گھنٹوں قبل مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

یاد رہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کا سامنا ہے اور اپوزیشن کے دباؤ پر وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے اور تا حال واپس نہیں آئے ہیں, 17 نومبر کو اعلیٰ حکومتی سطح پر وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کو ان کے عہدے سے تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں اسحٰق ڈار کی جانب سے 22 نومبر 2017 کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو رخصت کی درخواست دی گئی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا، رخصت منظور ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داریاں بھی واپس لے لی گئیں تھیں، جس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ خزانہ اور اقتصادی امور کا اضافی چارج لے لیا تھا۔

گزشتہ برس 27 دسمبر کو وفاقی حکومت نے مفتاح اسمٰعیل کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مشیر خزانہ و اقتصادی امور مقرر کردیا تھا۔

وفاقی کابینہ نے خصوصی اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال 19-2018 کے لیے پیش ہونے والے بجٹ کے لیے دی جانے والی تجاویز کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں حکمراں جماعت کے دورِ حکومت کے چھٹے اور آخری بجٹ کے لیے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران نومنتخب وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ تجاویز پر بریفنگ دی۔

یاد رہے کہ 26 اپریل کو مشیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مالی سال 18-2017 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی۔

اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے بتایا تھا کہ ’رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 فیصد رہی جو گزشتہ 13 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے قبل اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے حکومت کی جانب سے مفتاح اسمٰعیل کو بجٹ سے کچھ دیر قبل وزیر خزانہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔

بعد ازاں بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کرکے جانے والے اپوزیشن اراکین میں سے تحریک انصاف کے ارکان بائیکاٹ ختم کرکے ایوان میں واپس آگئے اور شور شرابہ شروع کردیا۔

پی ٹی آئی ارکان نے مفتاح اسمٰعیل کے ڈائس کے سامنے آکر نعرے بازی کی اور بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر چیمبر کے سامنے پھینک دیں۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے قومی اسمبلی میں مالی سال 19-2018 کی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا چھٹا بجٹ پیش کررہا ہوں جس پر مجھے خوشی ہے۔

انہوں نے مالی سال 19-2018 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس حکومت کا مقدس فریضہ ہے کیونکہ بجٹ کی منظوری کے بغیر حکومت ایک منٹ بھی نہیں چل سکتی، بجٹ کا پاس ہونا اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلی منتخب حکومت کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ اس میں تبدیلی کرسکے اور آج پیش کیا جانے والا بجٹ نواز شریف کی حکومت کا عکاس ہے اور ایوان میں ان کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو ہماری معیشت کی بہت بری حالت تھی اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور ملک میں دہشت گردی کی لہر تھی اور توانائی کا بحران بہت بڑا تھا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کی قیادت میں چلینچز کا سامنا کیا اور 5 سال میں سخت محنت کی اور عوام کی خدمت ہماری سب سے اہم ترجیح رہی۔

مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی
معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.4 فیصد تھی جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ شرح 5.8 فیصد ہے جو 13 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بلند سطح کی وجہ سے آمدنی کا حجم بڑھا اور معیشت میں ترقی ہوئی اور ہم آج دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں، حالیہ برسوں میں تمام بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور یہ بہتری حکومت کے درست اور مناسب فیصلوں کی وجہ سے ہوئی۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور آج یہ شعبہ روزگار فراہم کر رہا ہے۔

سروسز کے شعبے میں 6.4 فیصد ترقی کی گئی اور افراط زر کی بات کی جائے تو ہم نے 5 برسوں میں اوسط افراط 5 فیصد سے کم رکھی اور مارچ تک یہ شرح 3.8 فیصد رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس سال مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک محدود رہ جائے گا، ایف بی آر کے محاصل دیکھا جائے تو اس سال ان کی وصولی کا ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں ٹیکس کی وصولی میں کامیابی پر پاکستانی ٹیکس دہندگان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے قرضوں میں 383 فیصد اضافہ ہوا، اندرونی اور بیرونی وجوہات کی وجہ سے برآمدات کا شعبہ متاثر رہا لیکن رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں برآمدات میں 13 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور مستقبل میں ان درآمدات کی بدولت بہتری متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے حکومتی اقدامات سے 30 جون تک زر مبادلہ بہت زیادہ ہوگا، ترسیلات زر 19.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور امید ہے کہ جون تک یہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غریب لوگوں پر سب سے بڑا ٹیکس مہنگائی ہے، ہم نے گزشتہ 5 برسوں میں اوسط افراط زر 5 فیصد سے کم کر رکھی ہے، جو 2008 اور 2013 میں 12 فیصد تھی لیکن رواں سال مارچ تک یہ شرح 3.8 فیصد رہی جبکہ اشیاء خوردونوش کے لیے یہ شرح 2 فیصد رہی۔

2018-19ء کیلئے سرکاری شعبے میں ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات اسلام آباد پالیٹکس رپورت / معظم رضا تبسم: آئندہ مالی سال2018-19ء کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا مجموعی حجم 20کھرب 43 ارب روپے ہے جس میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کا حجم 10 کھرب 30 ارب روپے اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 10 کھرب 13 ارب روپے ہے، غیر ملکی امداد کا حصہ ایک کھرب 71 ارب روپے ہے۔ 2018-19ء کیلئے سرکاری شعبے میں ترقیاتی پروگرام کے نمایاں نکات یہ ہیں:۔*ہوا بازی ڈویژن کیلئے 4677.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*سرمایہ کاری بورڈ کیلئے 125 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*کابینہ ڈویژن کیلئے 1116.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*آبی وسائل ڈویژن کیلئے 79500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کیلئے 15236.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کیلئے 802.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *کامرس ڈویژن کیلئے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *مواصلات ڈویژن (علاوہ این ایچ اے) کیلئے 14480.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *دفاع ڈویژن کیلئے 640.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *دفاعی پیداوار ڈویژن کیلئے 2810 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *اقتصادی امور ڈویژن کیلئے 70 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *وفاقی تعلیم و پیشہ وارا نہ تربیت ڈویژن کیلئے 4336.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 175.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*فنانس ڈویژن کیلئے 18151.4 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *خارجہ امور ڈویژن کیلئے 199.7 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 46679.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *ہاؤسنگ و تعمیرات ڈویژن کیلئے 5433.1 ملین روپے رکھے کئے گئے ہیں۔ *انسانی حقوق ڈویژن کے لئے 300 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*صنعت و پیداوار ڈویژن کے لئے 1775.2 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *اطلاعات و نشریات ڈویژن کیلئے 1664 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ڈویژن کیلئے 3046.3 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کیلئے 3552.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *داخلہ ڈویژن کیلئے 24207.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کیلئے 51205.6 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *قانون و انصاف ڈویژن کیلئے 1025 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *میری ٹائم افیئرز ڈویژن کیلئے 10118.6 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *انسداد منشیات ڈویژن کیلئے 251.2 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *قومی غذائی تحفظ اور تحقیق ڈویژن کیلئے 1808 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن ڈویژن کیلئے 25034.4 روپے رکھے گئے ہیں۔*قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے لئے 550.5 ملین روپے مختص کئے گئے۔ *پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کیلئے 30424.5 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 300 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کیلئے 943.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔*پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور اصلاحات ڈویژن کے لئے 27590.1 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ *پوسٹل سروسز ڈویژن کیلئے 370 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *شماریات ڈویژن کیلئے 200 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *ریلوے ڈویژن کیلئے 40000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *مذہبی امور اور بین العقائد ہم آہنگی کے لئے 36 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*ریونیو ڈویژن کیلئے 2558.9 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *سائنس و ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کیلئے 2660 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *سپارکو کے لئے 4700 ملین روپے مختص کئے گئے۔*ریاستیں و سرحدی علاقہ جات ڈویژن کیلئے 2855.5 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کیلئے 280 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *آبی وسائل ڈویژن کیلئے 79500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *کارپوریشنز کی مد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے 201600 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *این ٹی ڈی سی/پیپکو کیلئے 36125 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں*وزیراعظم گلوبل ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کیلئے کے لئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *سی پیک منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے خصوصی فراہمی کی مد میں 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *فاٹا 10 سالہ منصوبہ (وفاقی حصہ) کیلئے 10,000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *ایرا کیلئے 8500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *آئندہ حکومت کی طرف سے نئے منصوبہ جات کیلئے مختص کردہ مجموعی رقوم کی مد میں ایک لاکھ ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ *آئی ڈی پیز کی امداد و بحالی کے لئے 45000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*سیکورٹی میں اضافہ کیلئے 45000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*وزیراعظم کے یوتھ اقدام کے لئے 10, 000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ کے لئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔*پی پی پی موڈ فنانسنگ (آؤٹ سائیڈ بجٹ) کیلئے 1,00000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔