فیس بک پیج سے منسلک ہوں

شہباز شریف جامعہ پنجاب کی اراضی مذہبی جماعت کو کیوں دینا چاہتے ؟مکمل رپورٹ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم: پنجاب یونیورسٹی اراضی حکومت کو دینے کے معاملہ پر چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو معطل کردیا، سینئر ترین پروفیسر کو عبوری وائس چانسلر تعینات کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جامعہ پنجاب کی 80 کینال زمین حکومت کو دینے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران وائس چانسلر اور چیف سیکریٹری عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حیثیت میں یونیورسٹی کی 80 کینال اراضی حکومت کو دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سینڈیکٹ نے کس حیثیت سے یونیورسٹی کی اراضی حکومت کو دی؟ عدالت کے علم میں ہے کہ اورنج لائن منصوبے کے لیے یہ زمین فراہم کی گئی۔

سپریم کورٹ نے زمین فراہم کرنیوالے سنڈیکیٹ ارکان کو بھی طلب کرلیا ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ثابت ہو گیا کہ حکومت جائز و ناجائز مطالبات منوانے کیلئے مستقل وائس چانسلر تعینات نہیں کرتی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ڈھائی برس سےمستقل وائس چانسلرتعینات کیوں نہیں کیاگیا، آگاہ کیا جائے کہ اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سنڈیکیٹ نے کس حیثیت سے یونیورسٹی کی اراضی حکومت کو دی،عدالت کے علم میں ہے کہ اورنج لائن منصوبے کیلئے اراضی فراہم کی گئی۔

خالد رانجھا نے استدعا کی کہ عدالت وائس چانسلر کی معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پہلےپنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر استعفیٰ دیں پھر جائزہ لیں گے۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے کہا کہ میں استعفےدیتاہوں اورابھی عدالت میں پیش کرتاہوں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ثابت ہوگیا کہ حکومت جائز اور ناجائز مطالبات منوانے کے لیے مستقل وائس چانسلر تعینات نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ ڈھائی برسوں سے جامعہ پنجاب میں مستقل وائس چانسلر کیوں نہیں لگایا گیا، آگاہ کیا جائے کہ اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔

اس موقع پر عدالت نے زمین فراہم کرنے والے سنڈیکیٹ ممبران کو طلب کرتے ہوئے وائس چانسلر ذکریا ذاکر کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

جامعہ پنجاب کا یہ معاملہ رواں سال جنوری میں سامنے آیا تھا۔ پنجاب حکومت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے حوالے سے ایک مدرسے کی زمین حاصل کی تھی اور متبادل کے طور پر یونیورسٹی کی زمین ایک سیاسی و مذہبی جماعت کو دینے پر دباؤ ڈال رہی تھی۔

اس معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ پر حکومت کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا کہ وہ اپنی زمین حکومت کے حوالے کرے لیکن ابتدائی طور پر اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر نے کہا تھا کہ جامعہ پنجاب پرانے کیمپس کی کچھ زمین حکومت کو نہیں دی جائے گی۔

بعد ازاں جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نصر نے پنجاب حکومت کی جانب سے جامعہ کی زمین دینے کے معاملے پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔

ڈاکٹر ظفر معین نے کہا تھا کہ‘انہوں نے حکومت پنجاب کے بعض عناصر کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس کی دو کنال اراضی مذہبی جماعت کو حوالے کرنے پر شدید دباؤ کے بعد استعفیٰ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جامعہ کے تمام اساتذہ زمین کو حکومت کے حوالے کرنے پر سخت مخالف ہیں اس لیے دباؤ قبول کرنے کے بجائے استعفیٰ دے دیا’۔

اس سےقبل وزیر اعلی پنجاب کے مشیر خاص اور چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد احسان نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر، تمام شعبہ جات کے ڈینز اور دیگر حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران زور دیا تھا کہ جامعہ کی زمین بغیر کسی تاخیر کے حکومت کے حوالے کردی جائے۔

مذکورہ ملاقات سے ایک ہفتے قبل ڈاکٹر ظفر معین کی سربراہی میں منعقد اجلاس میں مشترکہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف پنجاب یونیورسٹی کی زمین ہتیھانے کے بجائے لیک روڈ پر قائم سرکاری دفاتر کے پاس مدرسے کے لیے زمین فراہم کریں۔