فیس بک پیج سے منسلک ہوں

نگران وزیر اعظم کیلئے تصدق جیلانی اور ڈاکٹر عشرت فیورٹ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضا تبسم: شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں نگران وزیراعظم کیلئے  پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں جسٹس ریٹائرڈ تصدق جیلانی اور ڈاکٹر عشرت حسین کے نام زیرغور لانے پر اتفاق کے چرچے ہیں – واضح رہے کہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں چیئرمین سینٹ کے امیدوار پر بھی حیران کن اتفاق رائے ہوا تھا۔ تاہم پیپلزپارٹی کے اہم رہنما مصر ہیں کہ ابھی تک پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ و سابق صدر آصف علی زرداری نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو کسی نام سے آگاہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی جانب سے نگران وزیر اعظم کے لئے نامزدگی کو خفیہ نہ رکھنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے میڈیا میں نام دئیے لہذا انہیں اب پی ٹی آئی سے مشاورت کے لئے رابطے کی ضرورت نہیں رہی۔ سید خورشید شاہ نے خاص طور پر جسٹس ریٹائرڈ تصدق جیلانی اور ڈاکٹر عشرت کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا میں نام آنے کے بعد ان شخصیات کے بارے میں منفی باتیں پھیلائی جا سکتی ہیں۔ حالانکہ کہ تصدق جیلانی اورڈاکٹر عشرت حسین کے علاوہ نام بھی پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیا میں دئیے گئے تھے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے صحافیوں سے بات چیت میں ڈاکٹر عشرت اور تصدق جیلانی کے ناموں کی مخالفت بھی نہیں کی تھی جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے دئیے گئے تیسرے امیدوار عبدالرزاق داود کا نام لینے سے گریز کیا۔

 

شہر اقتدارمیں آئندہ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت بننے پر بھی دونوں جماعتوں کے رہنما معترض دکھائی نہیں دیتے اور واضح دکھائی دے رہا ہے کہ دونوں جماعتیں ہر صورت میں مسلم لیگ ن کو اقتدار سے باہر رکھنے کےلئے اتحاد پرمتفق ہیں۔ تاہم وزیر اعظم کس جماعت سے ہوگا اس بارے فی الحال دونوں جماعتوں کے رہنما واضح دعوی کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

واضح رہے کہ اپنے ایک سال قبل اعلان کے مطابق چئیرمین سینیٹ مسلم لیگ ن کا نہ بننے دینے کے بعد پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری چار اپریل کو گڑھی خدا بخش جلسہ میں یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ ” پنجاب میں آئندہ وزیر اعلی پیپلزپارٹی کا ہوگا جس سے بھی مل کر حکومت بنائیں ن لیگ کو حکومت نہیں بنانے دینگے۔ “