فیس بک پیج سے منسلک ہوں

نگران وزیراعظم کے مجوزہ نام رواں ہفتے متوقع،، ریٹائرڈ جنرل بھی آپشن ہو سکتا

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضا تبسم : انتخابات 2018 سے قبل نگران حکومت کی تشکیل کے مرحلہ کا آغاز ہوتے ہی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سعودی عرب کے دو دورہ پر پہنچ گئے ہیں-دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابرکے ہمراہ بیرون ملک دورہ پر ہیں – پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو جمعہ کو دبئی پہنچے تھے  بعد ازاں لندن چلے گئے اور انکی سترہ اپریل کو وطن واپسی متوقع ہے۔

پاکستان کی سیاست میں امریکہ ، سعودی عرب ، یو اے ای اور برطانیہ کا خاصا کردار رہا ہے۔ مشرف دور آمریت میں بھی بش ، بلیئراور بینظیر معاہدہ کا چرچا رہا جس کے نتیجہ میں 2008 میں بحالی جمہوریت ہوئی۔ جس کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین اپنی حال میں میں شائع ہونے والی کتاب میں یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ 2008 ء کے انتخابات فکسڈ تھے اور امریکہ بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنانا چاہتاتھا۔

کذشتہ ہفتے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی جس میں نگران حکومت کے حوالے مشاورت کا آغاز ہوا۔ سیاسی ذرائع کے مطابق خورشید شاہ سے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اپنی جماعت پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس پر انہیں آئندہ ہفتے نگران وزیراعظم کے مجوزہ ناموں سے آگاہ کئے جانے کا جواب ملا تھا۔ خورشید شاہ نے اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقات کرکے ان سے بھی نگران وزیراعظم کے لئے نام تجویز کرنے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔ ذرائع کے نگران وزیراعظم کے مجوزہ ناموں پر مشاورت کے لئے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں میں پس پردہ رابطے شروع ہیں اور رواں ہفتے سیاسی جماعتیں اپنے اجلاس منعقد کرکے جماعتی سطح پر نگران حکومت کے لئے ناموں کو حتمی شکل دینگی-

اعلی سیاسی ذرائع کے مطابق حکومت نگران وزیراعظم کے لئے کسی ریٹائرڈ جج کے بجائے بیوروکریٹ یا ٹیکنوکریٹ کو ترجیج دیگی ۔ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ریٹائرڈ ،جج، بیوروکریٹ ، ٹیکنو کریٹ اور ریٹائرڈ جنرل کے نام تجویز ہوسکتے ہیں۔ اعلی سیاسی ذرائع کے مطابق بیرون ملک جانے والے حکمران اور اپوزیشن وفود کی 17 اپریل کو وطن واپسی ہوگی ۔ جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگران حکومت کی تشکیل پر مشاورت کا اگلا مرحلہ ہوگا ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے اپوزیشن لیڈر کی رواں ہفتے میں مشاورتی ملاقات متوقع ہے جس میں نگران وزیر اعظم کے ناموں کا تبادلہ ہوگا ۔