فیس بک پیج سے منسلک ہوں

کو ئٹہ میں فائرنگ عیسائی برادری کے دو افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ:کو ئٹہ میں فائرنگ کے واقعہ میں عیسائی برادری کے دو افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی-

پولیس حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے نواحی علاقے عیسیٰ نگر ی میں عیسائی برادری کے چند لوگ اتوار کی شام کو چرچ میں عبادت کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ چر چ کے قریب مو ٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ کی جًس کی زد میں آ کر ایک لڑکی سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔مسلح افراد فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر فرارہو گئے۔ واقعہ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر موقع پر موجود شواہد جمع کئے اور عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں۔

زخمیوں کو فوری طور پر بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا جا رہا تھا کہ ایک زخمی نے راستے میں اور دوسرے نے اسپتال میں دم توڑ دیا جبکہ دیگر چار زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشنا ک بتائی گئی ہے۔ واقعے کے خلاف عیسائی برادری کے لوگوں نے بھر پور احتجاج کیا اور بروری روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند کئے رکھا ۔

واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں ایک رکشے میں سوار عیسائی برادری کے چار افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحر یک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔ گزشتہ سال دسمبر میں کو ئٹہ کے مرکزی علاقے زرغون روڈ پر عیسائی برادری کے ایک چرچ پر دو خودکش حملہ آوروں نے حملہ کر کے دس سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے واقعہ کی مذمت کی ہے اور پولیس حکام کو عیسائی اور دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔