فیس بک پیج سے منسلک ہوں

چاروں صوبوں میں اربوں روپے کے گھپلے کرنیوالے احتساب سے آزاد

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضاتبسم: صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں کی وزاتوں اور سرکاری، نیم سرکاری اداروں اور ماتحت کارپوریشنوں کے حسابات کی تحقیقات سے جان بوجھ کرگریزاں، اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات دس سے 23 برسوں سے زیر التواء ، کرپٹ افسران اور ذمہ داران کا احتساب نہیں ہو سکا-

آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق صوبوں نے پبلک اکاونٹس کمیٹیوں کی تشکیل اور آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کو اولیت نہیں دی جس کے باعث پنجاب میں 10 سال ، خیبر پختونخواہ میں 13 سال ، سندھ میں 18 سال جبکہ بلوچستان میں 23 سال سے وزارتوں ، سرکاری اداروں اور ماتحت کارپوریشنوں کی بے ضابطگیوں کے ذمہ داران کا احتساب زیر التواء اہے ۔ صوبائی وزارتیں ، محکموں کی طرح ضلعی حکومتیں بھی آڈیٹرجنرل پاکستان کو گھپلوں والے معاملات کا ریکارڈ فراہم کرنے سے گریزاں ہیں جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کوئی بڑا اقدام نہیں اٹھایا-