فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سپریم کورٹ جج کے گھر پر فائرنگ ,آصف زرداری کا اعلی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضا تبسم  : سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آ یا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔فائرنگ کا واقعہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائس گاہ لاہور میں پیش آیا۔جس کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ چیف جسٹس تمام واقعے کی نگرانی خود کر رہے ہیں جب کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کو بھی طلب کر لیا ہے۔فائرنگ کا واقعہ دو بار پیش آیا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر گزشتہ رات فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد صبح پھر ان کے گھر پر فائرنگ کی واردات کی گئی ۔پولیس کے مطابق گولیاں گھر کے دروازے اور  کچن میں لگیں _ پولیس نے گولیوں کے خول فرانزک کے لئے بھجوا دئیے _ دوسری وزیر اعلی پنجاب نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے , وزیر اعلی پنجاب نے اپنے سیکیورٹی چیف کو جسٹس اعجاز الحسن سے ملاقات کے لئے بھیجا مگر جسٹس نے ملاقات سے انکار کر دیا _ یاد رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن پانامہ ریفرنسسز میں نگراں جج رہے اور پانامہ سمیت مختلف مقدمات کا حصہ بھی رہے۔

پیپلز پارٹی کا تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

سابق صدر اور بپیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زردای واقعہ کی شدید مذمت کی ہے , سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے کی اعلی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں ۔ آصف سپریم کورٹ کے معزز جج کے گھر پر فائرنگ انتہائی تشویشناک ہے ۔ آصف علی زرداری نےکہا کہ فائرنگ کے ملزمان کو گرفتار کرکے بے نقاب کیا جائے ۔ آصف علی زرداری ۔  پیپلز پارٹی پارٹی کے سیکرٹری جنرل نئیر بخاری اور سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے _

 تحریک انصاف کا وزیر اعلی سے استعفے کا مطالبہ 

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ قابل مذمت ہے، جمہوریت میں ججوں کو دھمکانے کے لیے سسیلین مافیا جیسے حربوں کی گنجائش نہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم پوری قوت سے عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑے ہیں، تحریک انصاف نے وزیر اعلی پنجاب سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے