فیس بک پیج سے منسلک ہوں

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پر حملہ کردیا

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ: امریکا نے اپنے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ شام کے دارالحکومت دمشق میں حملہ کر دیا۔
روسی وزارت دفاع کے بيان کے مطابق امريکا، برطانيہ اور فرانس نے ہوا سے زمين پر ہدف کو نشانہ بنانے والے ايک سو سے زائد ميزائل داغے، جن ميں شام کے فوجی اور سويلين اہداف کو نشانہ بنايا گيا۔ يہ بھی واضح کيا گيا ہے کہ ميزائلوں کو فضا ہی ميں ناکارہ بنانے کے عمل ميں روسی دفاعی نظام کا کوئی کردار نہيں تھا اور يہ کام شامی فوج کے دفاعی نظام نے کيا۔ روسی فوج کے مطابق يہ ميزائل بحيرہ احمر ميں تعينات امريکی عسکری بيڑے اور ال طنف ہوائی اڈے کے قريب سے امريکی جنگی طياروں نے داغے۔

يہ فضائی حملے شام ميں دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ ميں حاليہ مبينہ کيميائی حملے کے رد عمل ميں کيے گئے ہيں۔ اس حملے ميں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ امر يکا اور اس کے اتحاديوں کا الزام ہے کہ اس حملے ميں صدر بشار الاسد کی حامی افواج ملوث ہيں تاہم شامی حکومت اور روس اسے مسترد کرتا ہے۔

ماسکو حکومت نے اس حملے کو بين الاقوامی قوانين کی خلاف ورزی قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کيا جا سکتا ہے۔ روسی ايوان بالا ميں بين الاقوامی امور سے متعلق کميٹی کے سربراہ کونسٹنٹين کوساچيف کے بقول يہ حملہ کيميائی ہتھياروں کی روک تھام کے ادارے (OPCW) کے کام ميں امکاناً رکاوٹ ڈالنے کے ليے کيا گيا تھا، جس نے ابھی حال ہی ميں غوطہ ميں اپنا کام شروع کيا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ کا اپنے اعلان میں کہنا تھا کہ شام پر حملہ برطانیہ اور فرانس سے مل کر کیا گیا، جبکہ شام پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا جب کہ حملوں کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شام پر حملہ کیمیائی حملوں کے بعد کیا گیا اور ہمارا ہدف کیمیائی ہتھیار بنانے والی جگہوں کو تباہ کرنا ہے۔

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی حملوں کے بعد ہمارے پاس طاقت کے استعمال کے سوا کوئی حل نہیں بچا تھا۔ جبکہ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ ہم کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کے معمول کو برداشت نہیں کر سکتے۔

وزیردفاع جیمز میٹس نے پیٹنا گون میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حملے شامی حکومت پر کیے جا رہے ہیں۔ شام میں سائنسی مرکز پہلا ہدف تھا اور اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے کیمیائی ہتھیار فائر کیے۔

اسرائیل کے ایک حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ دمشق حکومت کے ظلم و جبر کے نتیجے میں امریکی قیادت میں حملے کیے گئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق حملوں کی وجہ شامی حکومت کا کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کر کے سرخ لکیر کو عبور کرنا ہے۔ دوسری جانب شام کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شامی وزارت خارجہ کے بیان میں حملوں کو سفاکانہ اور ظالمانہ جارحیت قرار دیا ہے۔ شامی حکومت کے مطابق یہ حملے بے بنیاد کیمیائی حملوں کا بہانہ بنا کر شروع کیے گئے ہیں۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ يہ انٹرنیشنل قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔