فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سپریم کورٹ نے نااہلی مدت کا تعین کر دیا,نواز-ترین تا حیات نااہل

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضا تبسم،اللہ داد صدیقی :سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت رکن پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا , فیصلے کے مطابق 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی_ سپریم کورٹ فیصلہ سے سابق وزیراعظم نوازشریف اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین تاحیات نا اہل قرار پا گئے ہیں_

62 ون ایف نااہلی مدت کیس کی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا آئین میں بھی لکھا ہوا ہے کہ ایسے شخص کی نااہلی تاحیات رہے گی اس لیے جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا جب تک جس بنیاد پر نااہلی کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر اس فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ آجاتا ہے اور تو یہ نااہلی غیرموثر ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ 14 فروری 2018 کو آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

آرٹیکل 62 ون ایف نااہلی کیس کا پس منظر

کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

دوسری جانب گذشتہ برس 15 دسمبر کو عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کی اسی شق یعنی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔

جس کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا کہ آیا سپریم کورٹ کی جانب سے ان افراد کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا یا یہ نااہلی کسی مخصوص مدت کے لیے ہے۔

اس شق کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ میں 13 مختلف درخواستوں پر سماعت کی گئی۔

سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں دائر کرنے والوں میں وہ اراکینِ اسمبلی بھی شامل تھے جنہیں جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر نااہل کیا گیا۔

ان درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔

تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے عدالتی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

6 فروری کو عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ کئی متاثرہ فریق عدالت کے روبرو ہیں، وہ ان کے مقدمے کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔

سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی نااہلی کی مدت کے تعیّن سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہے یعنی اس شق کے تحت نااہل ہونے والا شخص عمر بھر الیکشن نہیں لڑ سکتا-

’فیصلہ پہلے آتا ہے اور ٹرائل اور مقدمہ بعد میں کیا جاتا ہے‘
وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس فیصلے کے ردعمل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ پہلے آتا ہے اور ٹرائل اور مقدمہ بعد میں کیا جاتا ہے۔
سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف بھی پانامہ لیکس سے متعلق مقدمے میں اسی شق کا شکار بنے
ان کا کہنا تھا کہ ‘ آج بھی نیب ٹرائل کورٹ میں جاری ہے۔ کوئی بھی دستاویز موجود نہیں جس کے مطابق نواز نے اپنے بیٹے سے تنخواہ لی ہو۔’
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‘نواز شریف ابھی تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا اور اسی الزام کی بنیاد پر انھیں نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔’
انھوں نے کہا کہ ‘پہلے نااہل کیا پھر پارٹی کی صدارت سے ہٹایا اور سینیٹ کے الیکشن سے روکا گیا اور آج نااہل کر دیا۔ جس وزیراعظم کو پاکستان کے عوام نے ووٹ سے منتخب کیا اس کا فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے۔’
خیال رہے کہ مقدمے کی آخری سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ عدالت کو کسی بھی رکن پارلیمان کو نااہل قرار دینے کے لیے ہر مقدمے کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔
اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اور پارلیمنٹ ہی اس کے تعین کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے۔
خود یہ کھیل شروع کیا اور خود ہی اس کا شکار بن گئے
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ نواز شریف کو موقع دیا تھا کہ خود کو پارلیمان کے سامنے جوابدہ بنائے مگر نواز شریف نے خود سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کو ترجیح دی۔
پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لئے کام کیا ہے۔ نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی ہمیشہ حمایت کی۔
ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف نے یہ کھیل شروع کیا اور خود ہی اس کا شکار بن گئے ہیں۔
ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف نے ہمیشہ پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ان دونوں جماعتوںنے عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا موقع دیا۔