فیس بک پیج سے منسلک ہوں

متنازع فیض آباد معاہدہ پر ڈیڈلائن ختم :تحریک لبیک کا احتجاج پھیل گیا

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم :تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی متنازع فیض آباد معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو دی گئی ایک اور ڈیڈلائن جمعرات کے روز ختم ہوگئی جس کے بعد اس کا احتجاج پنجاب ، کے پی کے سندھ کے کئی علاقوں تک پھیل گیا اور کئی شہروں میں ٹریفک مفلوج ہوکر رہ گئی۔ موٹروے اور قومی شاہراہوں پر بھی ٹی ایل پی کارکنوں کے احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہو کر رہی گئی جبکہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

داتا دربار کے باہر خادم حسین رضوی نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو تنبیہ کی تھی کہ اگر فیض آباد دھرنے کے حوالے سے معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا تو ملک بھر میں دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔

ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد دارالحکومت اسلام آباد اور اطراف کے علاقوں میں بھی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں فیض آباد دھرنے کا اختتام ایک معاہدے کے ذریعے ہوا تھا جس کے تحت وفاقی وزیر قانون نے استعفیٰ دیا تھا جبکہ مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینے کا بھی وعدہ کیا گیا اور معاہدے میں فوج کے ایک جنرل کے بھی دستخط تھے۔ خادم حسین رضوی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے معاہدہ فوج کی ثالثی پر کیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد دھرناکیس میں خادم حسین رضوی اور کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد چار اپریل کو فیض آباد دھرنا معاہدہ پر عملدرآمد کے لئے داتا دربار لاہور کے باہر دھرنے کا آغاز کیا تھا