فیس بک پیج سے منسلک ہوں

امریکہ میں نئے پاکستانی سفیر کیخلاف کوئی نیب انکوائری نہیں ہو رہی : خواجہ آصف

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ:وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سینیٹ میں حکومت کی جانب سے امریکہ میں نئے پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہو رہی ہیں۔ ایوان بالا میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ثمینہ سید کے ایوان میں نکتہ اعتراض کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ سفیروں کی تقرری کے لیے پارلیمان کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
یہ انتظامیہ کا صوابدیدی اختیار ہے اور 20 فیصد کوٹے پر حکومت ماضی کی طرح کسی بھی نان کریئر شخص کو سفارت کاری کی ذمہ داری دے سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اعزاز چوہدری 27 فروری کو ریٹائر ہو چکے ہیں جس کے بعد حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔خواجہ آصف نے علی جہانگیر صدیقی کے خلاف کسی بھی تحقیقات کی خبروں کو غلط قرار دیا‘علی جہانگیر صدیقی کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہو رہی ہے اور نیب میں بھی ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایوان چاہے تو یہ ترمیم متعارف کروائی جا سکتی ہے جس میں سفارت کاروں، ججوں اور دیگر اہم عہدوں کی تقرری کی توثیق پارلیمان کرے۔انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی مثال دی جہاں ان کے مطابق چار ہزار عہدوں پر تقرری کی توثیق کانگرس کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی امریکہ میں نان کریئر افراد کو بطور سفیر امریکہ میں تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے سفیر کی منظوری امریکہ سے نہیں آئی ہے جونہی وہ آئے گی وہ اپنی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ امریکہ کے بدنام زمانہ قید خانے گوانتناموبے میں آج بھی حکومت پاکستان کے مطابق چار قیدی موجود ہیں اور ان کے مستقبل کے بارے میں حکومت پاکستان امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔خواجہ آصف نے ایوان کو ایک تحریری جواب میں ان قیدیوں کے نام تو نہیں بتائے تاہم یہ کہا کہ ان میں سے دو پر ابھی تک کسی جرم کا باضابطہ الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے خواجہ آصف کو بتایا کہ ان کے علاقے بلوچستان سے ایک قیدی کل ہی واپس آیا ہے۔خواجہ آصف نے بتایا کہ باقی دو میں سے ایک غالباً خالد شیخ محمد گیارہ ستمبر 2001 کے واقعے کے شریک ملزم ہیں جبکہ ایک دوسرے نے قتل اور قتل کی سازش کرنے کا اعتراف کیا ہے۔