فیس بک پیج سے منسلک ہوں

آئین توڑنے اور روگردانی کرنیوالوں کو سزا ملنی چاہیئے۔ آصف زرداری

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ:سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے یوم آئین کے موقع پر کہا ہے کہ آئین تقاضا کرتا ہے کہ اس پر نہ صرف اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے بلکہ ان لوگوں کو سزا دی جائے جن لوگوں نے ریاست کی اس بنیادی دستاویز سے روگردانی کی اور اسے توڑ ا مروڑا۔ یہ دستاویز ریاست اور شہریوں کے درمیان بنیادی سماجی معاہدہ ہے اور اسی کی وجہ سے وفاق کی ساری اکائیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ یوم آئین ہر سال 10اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اس روز 1973ءمیں قومی اسمبلی نے آئین کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ سابق صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ قومی شرم کی بات ہے کہ ایک ڈکٹیٹر نے 1977ءمیں اس آئین کو منسوخ کر دیا اور بعد میںیہ کہہ کر کہ یہ صرف 15صفحات کی ایک دستاویز ہے جسے جب چاہے وہ پھاڑ کر پھینک سکتا ہے، آئین کی بے حرمتی کی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ آئین کو پھاڑنا پوری قوم کی روح کو کچل دینے کے مترادف ہے۔ آئین کی بے حرمتی کرنا عوام کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ وہ لوگ جو آئین کی بے حرمتی کرتے ہیں اور اسے پھاڑتے ہیں وہ قوم کے غدار ہیں۔ ڈکٹیٹرز اور ریاست پر قبضہ کرنے والوں کو ہر صورت میں سزا دینی چاہیے اور وہ وقت ضرور آئے گا جب انہیں سزا ملے گی۔ آصف علی زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں، سیاسی پارٹیوں، مختلف آراءکے درمیان تاریخی اتفاق رائے پیدا کرکے آئین تشکیل دینا اس ملک کے لئے سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف یہ کہ وہ جمہوریت داعی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکن نے جمہوریت اور آئین کی حفاظت کرتے ہوئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ وہ سب قوم کے عظیم بیٹے بیٹیاں ہیں۔