فیس بک پیج سے منسلک ہوں

ٹیکس نادہندگان کے لیے ’ ایمنسٹی اسکیم‘ کا اعلان:پیپلزپارٹی کی مخالفت

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم  : وزیر اعظم نے ٹیکس نادہندگان کے لیے ’ ایمنسٹی اسکیم‘ کا اعلان کر دیا۔ وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’انکم ٹیکس کے حوالے سے پیکیج جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ملک میں اس وقت صرف 7 لاکھ افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، ٹیکس گزاروں کی محدود تعداد معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، تاہم اس پیکج سے انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ملک میں 12 کروڑ افراد قومی شناختی کارڈ ہولڈرز ہیں، شناختی کارڈ نمبر کو انکم ٹیکس نمبر بنادیا گیا ہے اور اس پیکج کے ذریعے کوئی بھی شہری ایک آسان فارم بھر کر انکم ٹیکس دہندہ بن سکتا ہے۔‘

وزیر اعظم نے 5 نکاتی ٹیکس اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور جن کے بیرون ملک اثاثے موجود ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ اد کر کے ٹیکس ایمنسٹی حاصل کر سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’انکم ٹیکس ریٹ کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا، 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شہری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے،12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا جبکہ 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس ہوگا۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہ ایمنسٹی اسکیم کسی ایک پاکستانی کے لیے نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اسکیم کا مقصد لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہے، تاہم سیاسی لوگ ایمنسٹی اسکیم کا حصہ نہیں ہیں، جبکہ اسکیم سے 30 جون تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔‘

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’ایمنسٹی ان اثاثوں کے لیے ہے جو ظاہر نہیں، اسکیم کے بعد پاکستان میں 3 کروڑ افراد ٹیکس دہندہ ہونے چاہئیں جبکہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ آف شور کمپنیوں سے ان کا کہنا تھا کہ ’آف شور کمپنیاں بھی اثاثہ ہیں، آف شور کمپنیاں رکھنا جرم نہیں لیکن اثاثے ڈکلیئر ہونے چاہئیں۔‘

امریکا کے حالیہ دورے کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ’امریکا کا دورہ نجی نوعیت کا تھا، 40 سال سے امریکا کا دورہ کر رہا ہوں اور اگر وہاں عام آدمی کی طرح سیکیورٹی کے عمل سے گزرا تو اس میں کوئی ہرج نہیں، جس ملک میں جائیں وہاں کے قوانین کی عزت کرنی چاہیے۔‘ چیف جسٹس ثاقب نثار سے چند ہفتے قبل ہونے والی ملاقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس سے ملکی معاملات پر بات چیت کے لیے وقت مانگا تھا اور ان سے سیاسی نہیں بلکہ ملکی معاملات پر بات ہوئی۔‘

پیپلزپارٹی کی مخالفت
پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت کی اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی مخالفت کرتے ہوئے ایمسنٹی اسکیم کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔سینیٹر میاں رضا ربانی نے اپنے ایک بیان میں حکومت کی کالےدھن کو صاف کرنے کی ایمنیسٹی اسکیم کی سختی سے مذمت کی ہے اور اس کی سینیٹ میں بھی مخالفت کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی اسکیمیں ایک لائیسنس ہیں امیروں کے لئے کہ وہ غیرقانونی طریقوں سے دولت کمائیں اور پھر اسے بیرون ملک بھیجیں پھر اس طرح کے قانون کے زریعے اس غیر قانونی دولت کو واپس لے آئیں انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایسی اسکیمیں رائج کی گئیں لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی تمام تر اقتصادی پالیسیاں بگ بزنس کے لئے ترتیب دی گئیں ہیں جبکہ مڈل کلاس، پروفیشنل اور محنت کشوں کے لئے صرف بلواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسز اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بوجھ ہے۔

پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاناما ایمنسٹی اسکیم کو رد کرتے ئیں الیکشن سے دو ما قبل یہ اسکیم بدنئتئ ھے- کالے دھن کو سفید کرنے کے لۓ اور اپنے حواریوں کو نوازنے کے لے متعارف کروائی جا رہی ہے ۔ پاناما ایمنسٹی اسکیم فراڈکا نام ھے ایمنسٹی اسکیم بےنامی اور بیرون ملک غیر قانونی اور نا جائز دولت کو قانونی کرنے کی سازش ہے ۔ موجودہ حکومت اپنے ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکام ہو چکی ہے ۔ منی لانڈرنگ اسکیم کو معیشت کا استحکام اور اصلاحات کہنا معیشت کی توھین ہے ۔ی ہ اسکیم ایک مافیا اور قومی دولت کو لوٹنے والوں کو ان کی چوری پر انعام ہی ہے ۔ الیکشن سے چند ماہ پہلے اس طرح کا اقتصادی آرڈیننس بدنیتی اور پری پول دھاندلی ہے ۔ اس طرح کے آرڈیننس اسمبلی کے اجلاس سے چار دن پہلے اور بجٹ پیش ہونے سے چار ہفتے پہلے لانا پارلیمنٹ کو زیر دست کرنے کے مترادف ہے۔