فیس بک پیج سے منسلک ہوں

اشرف غنی افغانستان میں چینی فوجی اڈا بنانے پر متفق

اسلام آباد پالیٹکس مانیٹر :افغانستان میں چین کا  فوجی اڈا بنانے کے لئے بیجنگ کی تجویز پر اشرف غنی انتظامیہ نے آمادگی ظاہر کر دی- افغانستان کے محکمہ دفاع نے چین کے ساتھ فوجی اڈے کی تعمیر کے حوالے سے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر دونوں ممالک میں اتفاق ہے تاہم جزئیات واضح کی جارہی ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ چین، افغانستان میں دور افتادہ اور پہاڑی علاقے واخان میں فوجی اڈا تعمیر کرے گا جہاں اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کی فوجیں مشترکہ پیٹرول کرتی ہیں تاہم اس وقت اس حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ دوسری جانب چینی حکام نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ افغانستان میں کوئی فوجی اڈہ تعمیر نہیں کر رہے۔ تاہم اب افغان حکام نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ دونوں ممالک میں فوجی اڈے کی تعمیر سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، اوریہ کہ دونوں ممالک میں اس حوالے سے اتفاق بھی پایا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ای کے مطابق افغانستان کے محکمہ دفاع کے نائب ترجمان محمد رادمنیش کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں فوجی اڈے کی تعمیر کے حوالے سے سب سے پہلے دسمبر 2017 میں بیجنگ میں مذاکرات ہوئے تھے۔ محمد ردمنیش کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جزئیات ابھی واضح کی جارہی ہیں۔ محکمہ دفاع کے نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اس فوجی اٖے کی تعمیر خود کرنا چاہتے ہیں لیکن چینی حکومت نے اعدہ کیا ہے کہ وہ ڈویژن کی مالی مدد فراہم کرے گا اور افغان فوجیوں کو تربیت فراہم کرنے سمیت فوجی ساز و سامان، ہتھیار اور دیگر مدد فراہم کرے گا۔ کابل میں چینی سفارت خانے کے ایک سینیئر عہدیدار نے اتنا بتایا کہ چین، افغانستان میں ایک عمارت کی تعمیر میں شریک ہے۔ خیال رہے کہ چین اور افغانستان کی سرحدیں چینی خود مختار علاقے سنکیانگ سے ملتی ہیں، چین کے اسی علاقے کی سرحدیں پاکستان اور بھارت سمیت تاجکستان سے بھی ملتی ہیں۔ چین کو اسی علاقے میں یوغور نسل کے افراد کی شورش کا خدشہ ہے جبکہ عراق سے فرار ہونے والے دہشت گرد تنطیم دولت اسلامیہ (داعش) کے دہشت گرد واخان کے علاقے یا وسطی ایشیا سے افغانستان اور سنکیانگ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ یوغور افرد سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ’ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ‘ (ای ٹی آئی ایم) جیسی شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں، جو چین و ترکمانستان میں انتشار پھیلانے میں بھی ملوث ہے۔