فیس بک پیج سے منسلک ہوں

ایک فیصد ارب پتی افراد دنیا کی 82 فیصد دولت کے مالک

اسلام آباد پالیٹکس مانیٹر : دنیا میں امیر اور غریب کے درمیان فرق ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے اور نئی تحقیق کے مطابق دنیا کی کل دولت کے 82 فیصد کا مالک صرف ایک فیصد امیر طبقہ ہے اور بقیہ 18 فیصد دنیا کی 99 فیصد آبادی میں تقسیم ہے جو عالمی سطح پر دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم سے قبل معروف چیریٹی ادارے ‘اوکس فیم’ کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 2010 کے بعد سے ایک عام آدمی کے مقابلے میں ارب پتی افراد کی دولت میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور مارچ 2016 سے مارچ 2017 کے دوران ہر دو دن بعد ایک نئے ارب پتی فرد کا اضافہ ہوا۔

اوکس فیم کے اعدادوشمار عالمی معیشت کے تصویر کشی کرتے ہیں جس میں محض چند افراد دنیا کی دولت کے مالک ہیں جبکہ کروڑوں اربوں افراد اب بھی کم آمدنی پر کام کر کے گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

اوکس فیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیان ایما نے اپنے بیان میں کہا کہ ارب پتی افراد کی دولت میں اضافہ دراصل معیشت کی ترقی کا نشاندہی نہیں کرتا بلکہ یہ ناکام معاشی نظام کی علامات ہیں۔

ادارے نے ملازمت کرنے والی خواتین سے کو درپیش مسائل اور مردوں کے مقابلوں میں مستقل کم آمدنی پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ان کی ملازمت بھی محفوظ نہیں ہوتی، اس وقت دنیا میں ہر 10 ارب پتی لوگوں میں سے 9 مرد ہیں۔

رپورٹ میں ایک عام آدمی اور مزدور کی آمدن کا کمپنیوں کے ٹاپ ایگزیکٹو اور چیئرہولڈرز سے موازنہ کیا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ صف اول کے پانچ عالمی گلوبل فیشن برانڈز کی محض چار دن میں اتنی آمدنی ہے جتنا بنگلہ دیش میں ایک گارمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور زندگی بھر کام کر کے کماتا ہے۔

ونی بیان ایما نے کہا کہ ہمارے کپڑے، ہمارے فون تیار کرنے والے اور ہمارے لیے فصلیں تیار کر کے سستی اشیا کی مستقل سپلائی یقینی بنانے والے افراد کا استحصال کیا جا رہا ہے تاکہ کارپوریشنز اور ارب پتی سرمایہ کاروں کے منافر میں اضافہ کیا جا سکے۔

اوکس فیم نے بڑھتے ہوئے عدم مساوات کے خاتمے کیلئے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ شیئرہولڈرز اور ایگزیکٹوز کے محصولات اور منافع پر قابو پانے، خواتین اور مردوں کی تنخواہوں کے درمیان وققہ کم کرنے، ٹیکس بچانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں پر خرچ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔