فیس بک پیج سے منسلک ہوں

حکومت کا شٹ ڈاون : توجہ دہشت گردی سے ہٹا رہے:امریکی وزیر دفاع

اسلام آباد پالیٹکس فارن ڈیسک : امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی قومی دفاعی حکمت عملی کی توجہ دہشت گردی کی بجائے ان کے بقول “طاقت کے عظیم مقابلے” کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ سیکرٹری دفاع جیمز این میٹیٹ نے نئی حکمت عملی اور امریکی حکومت شٹ ڈاون کے بعد  امریکی دفاعی اداروں کو خصوصی میمو پیغام میں کہا ہے کہ محکمہ دفاع امریکہ، امریکی اتحادیوں اور امریکہ کی حفاظت کے لئے اپنا مشن جاری رکھے گا.

“ہم دنیا بھر میں روزانہ کی کارروائیاں جاری رکھیں گے – جہازوں اور آب و ہواوں سمندر میں رہیں گے، ہمارے ہوائی جہازوں کی پرواز جاری رہے گی اور ہمارے جنگجوؤں مشرق وسطی، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں سرگرم رہینگے.” “اگرچہ تربیتی سرگرمیاں کم کرنا پڑیں گی، فعال فورسز ا منفی اثرات کے باوجود تیاری سے اپنی جنگیں لڑیں گے۔

میٹیس نے پیغام میں کہاہے کہ “میں حکومت کی بندش کے نتائج کو تسلیم کرتا ہوں،”. “آپ کو میری ذاتی عزم ہے کہ دفاعی قیادت پوری کوشش کرے گی کہ اثرات , آپ اور آپ کے خاندان کے کسی بھی مالی بوجھ کو کم کرسکیں. میٹس نے پیغام میں محکمہ دفاع کے اہلکاروں اور فورسزسے کہا کہ “خبردار رہو.

امریکہ کے ڈیفنس سیکرٹری جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے کے پچاس فیصد لوگ کام پر نہیں جائیں گے اور کچھ مرمتی، تربیتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کو فی الحال بند کرنا پڑے گا۔

پینٹاگون کی “قومی دفاعی حکمت عملی” کا اعلان

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے  پینٹاگون کی “قومی دفاعی حکمت عملی” کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔ یہ پالیسی عسکری حوالوں سے آنے والے سالوں میں امریکہ کے خدوخال مرتب کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے عندیہ دیا کہ امریکی محکمہ دفاع اپنی توجہ دہشت گردی سے ہٹا رہا ہے جو ان کے بقول 17 سالوں سے امریکی منصوبہ سازوں کو مصروف رکھے ہوئے تھی۔

“ہم دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپنی مہم جاری رکھیں گے لیکن اب امریکی قومی سلامتی کی بنیادی توجہ طاقت کے عظیم مقابلے پر ہوگی نہ کہ دہشت گردی پر۔”

جم میٹس نے چین اور روس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں دنیا کو “طاقت کے محور کے مطابق” قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ “روس نے اپنی قریبی ریاستوں کی سرحدوں کی خلاف ورزیاں کی اور اپنے ہمسایوں کی اقتصادی، سفارتی اور سلامتی کے امور پر اقوام متحدہ میں اپنے ویٹّو کی طاقت کا سہارا لیا۔”

چین کے بارے میں انھوں نے کہا کہ “چین اقتصادیات کو استعمال کرتے ہوئے اسٹریٹیجک مسابقت اختیار کے ذریعے اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ ہے جب کہ بحیرہ جنوبی چین میں عسکری موجودگی کو بڑھا رہا ہے۔”

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “تصادم” کی پالیسی قرار دیا اور کہا کہ امریکی فوجی حکام کی طرف سے اپنے بڑے فاعی اخراجات کو تحفظ دینے کی کوشش ہے۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کے مطابق لاوروف نے کہا کہ “ہمیں افسوس ہے بین الاقوامی قانون کو استعمال میں لاتے ہوئے مذاکرات کی بجائے امریکہ اپنی قیادت کو تصادم کی حکمت عملی سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”

پینٹاگون نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایران اور شمالی کوریا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیانگ یانگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی میزائل دفاع نظاموں کی ضرورت ہے۔

اس کے مطابق ایران “مسلسل تشدد کے بیج بوتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔”