فیس بک پیج سے منسلک ہوں

امریکی حکومت کا “شٹ ڈاؤن” شروع

اسلام آباد پالیٹکس فارن ڈیسک : امریکہ کے سرکاری اخراجات کے بل پر سینیٹ میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث نصف شب کے بعد امریکی حکومت کو ‘جزوی شٹ ڈاؤن’ کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث کاروبار حکومت کے غیر ضروری امور معطل ہو گئے ہیں۔

امریکی حکومت کے شٹ ڈاون کے بعد بہت سے حکومتی ادارے بند ہو جائیں گے اور سٹاف کو جبری رخصت پر بھیج دیا جائے گا۔ البتہ قومی سلامتی اور ائیر ٹریفک کنٹرول جیسی ایمرجنسی سروسز چلتی رہیں گی۔امریکی محکمہ دفاع کے پچاس فیصد لوگ کام پر نہیں جائیں گے اور کچھ مرمتی، تربیتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کو فی الحال بند کرنا پڑے گا۔

اسی طرح نیشنل پارکس اور قومی یادگاریں بھی بند کر دی جائیں گی لیکن اس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔ ووٹنگ سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کے کوشش تھی کہ کم از کم قومی پارکوں کو بند نہ کرنا پڑے اور بل پاس نہ ہونے کی صورت میں کوئی متبادل انتظامی بندوبست کیا جا سکے۔ ویزا اور پاسپورٹ سروسز میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 100 ارکان والے ایوان میں اس بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں لیکن طویل بحث و مباحثے اور مذاکرات کے بعد بھی اس پر اتفاق نہ ہو سکا اور اسبل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 49 ووٹ آئے۔ اس بل کے ذریعے حکومت کو آئندہ ماہ کی 16 تاریخ تک اخراجات کے بجٹ کی اجازت دی جانی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے اس پر اپنے فوری ردعمل میں کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹک سینیٹرز پر عائد کی اور اسے “شومر شٹ ڈاؤن” قرار دیا۔ بیان میں ان قانون سازوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو جائز امریکی شہریوں پر فوقیت دی۔

ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ “انھوں نے سیاست کو ہماری قومی سلامتی، عسکری خاندانوں، بچوں اور تمام امریکیوں کی خدمت کرنے کی ہماری قابلیت پر فوقیت دی۔”

قبل ازیں سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر کی اس بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ڈیموکریٹ ارکان نے اس بل کی مخالف کی کیونکہ وہ ان لاکھوں نوجوان تارکین وطن کو تحفظ دینے کے حق میں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی قرار دے کر ان کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ امریکی حکومت ماضی میں بھی کئی بار اسی کے باعث کام کرنا بند کر چکی ہے۔ 2013 میں صدر براک اباما کے دور حکومت میں سولہ دنوں کے لیے ایسا ہو چکا ہے۔ اس وقت ریپبلکن سینیٹرز نے مطالبہ کیا تھا کہ اخراجات کے بل میں ایسی شقیں ہوں جو کہ صدر  اباما کے کیئر ایکٹ کی فنڈنگ یا تو کم کرے اور یا اس ایکٹ کے نفاذ کو مزید ملتوی کیا جائے۔

قومی یادگاریں اور پارک بند کر دیے گئے تھے اور لاکھوں حکومتی ملازمین کو بغیر تنخواہ جبری رخصت پر بھجوا دیا گیا۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ کینیڈا کے ساتھ 5525 میل لمبے بارڈر کی نگرانی کے لیے صرف ایک شخص مامور تھا۔