عبدالقدوس بلوچستان کے وزیراعلی منتخب , 14 رکنی کابینہ سمیت حلف اٹھا لیا, بلاول بھٹو کی مبارکباد

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ :مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو واضح اکثریت کے ساتھ بلوچستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے جبکہ سرفراز بگٹی سمیت 14 رکنی نئی کابینہ نے بھی حلف اٹھا لیا۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں (ق) لیگ کے امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے امید وار آغا لیاقت کے درمیان مقابلہ ہوا۔ بلوچستان اسمبلی میں کُل 65 نشستیں ہیں جبکہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے امیدوار کو 35 اراکین کے ووٹ درکار ہوتے ہیں تاہم میر عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور سید لیاقت علی آغا نے 13 ووٹ حاصل کیے۔اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان کا نیا وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔

یاد رہے کہ 2013 سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیرِ اعلیٰ ہیں جبکہ ان سے قبل نواب ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ بھی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

بلوچستان اراکینِ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 21، پی کے میپ کے 14، نیشنل پارٹی (این پی) کے 11، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 8، مسلم لیگ (ق) کے 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے 2، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بی این پی عوامی، مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک رکن موجود ہیں جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی بھی ایوان کا حصہ ہیں۔

یکم جنوری 1974 کو پیدا ہونے والے میر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ ضلع آواران سے ہے جبکہ ان کے والد اور سینئر سیاستدان میر عبدالمجید بزنجو بھی بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد 14 رکنی نئی کابینہ کا بھی انتخاب عمل لایا گیا جن میں سابق وزیرداخلہ سرفراز بگٹی بھی شامل ہیں۔میرعبدالقدوس بزنجو کی کابینہ میں میر سرفراز احمد بگٹی، طاہر محمود خان، سردار سرفراز خان ڈومکی، نواب چنگیز خان مری، راحت جمالی، عبالمجید ابڑو، میر عاصم کرد گیلو، عامر رند، غلام دستگیر بادینی، محمد اکبر عسکانی، شیخ جعفر خان مندوخیل، سید محمد رضا، منظور احمد کاکڑ اور پرنس احمد علی شامل ہوگئے ہیں۔

نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران ان کی حمایت کرنے والی صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کا شریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی حمایت کرنے اور اس مہم کے دوران ساتھ دینے میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بے حد مشکور ہیں۔

نو منتخب وزیراعلیٰ نے کہا ’تمام سیاسی جماعتوں نے میرا بہت ساتھ دیا اور ارکان اسمبلی نے جمہوری عمل کو آگے بڑھایا ہے۔‘میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا جبکہ وزیراعلیٰ بننا ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی غیر جمہوری عمل نہیں، اور نہ ہی ان کا نواب ثناء اللہ زہری سے کوئی ذاتی اختلاف ہے وہ قابل احترام ہیں۔

گورنر ہاؤس بلوچستان میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں گورنر محمود خان اچکزئی نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو سے حلف لیا جبکہ ان کے ساتھ ان کی 14 رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھا۔

بلاول بھٹو کی نومنتخب وزیر اعلی بلوچستان کو مبارکباد

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے نئے منتخب وزیراعلیٰ عبدالقدو س بزنجو کو ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ ایک بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) سے بدلہ لیا ہے کیونکہ انہیں مسلم لیگ لیگ(ن) نظرانداز کر رہی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) صرف بلوچستان ہی میں ناکام نہیں ہوئی بلکہ اس کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پورا ملک مختلف بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا ہے کہ پی ایم ایل(ن) کوئی سیاسی یا نظریاتی پارٹی نہیں بلکہ ایک بلبلہ ہے۔ انہوں نے یہ پیشن گوئی کی کہ شریف برادران اور ان کی سیاست 2018ءکے انتخابات میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور پاکستان پیپلزپارٹی فتح سے ہمکنار ہوگی۔