فیس بک پیج سے منسلک ہوں

حدیبہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری, شریف خاندان کو دفاع کا حق نہیں دیا گیا

اسلام آباد ( اللہ داد صدیقی ) سیپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر مل اپیل کا تفصیلی جاری کر دیا، 36 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس فائز عیسیٰ نے تحریر کیا،فیصلے کے مطابق شریف خاندان کواپنے دفاع کےحق سے محروم رکھا گیا_سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضع کر دیا کہ حدیبیہ ریفرنس دوبارہ کھولنے کیلیے کی گئی اپیل زائد المعیاد ہے، فریقین کیخلاف 1990 میں بے نامی غیرملکی اکاونٹس کھولنے پر ریفرنس دائر کیے گئے جبکہ ہائیکورٹ نے ریفرنس درست طور پر مستردکیا،عدالت کا کہنا ہے معاملے کی دوبارہ تفتیش نہیں ہو سکتی،ہائیکورٹ کے ایک جج صاحب نے دوبارہ تفتیش کا جو فیصلہ دیا اسکی وجوہات نہیں بتائیں،چیرمین نیب نے 4 سال مقدمےکو آگے بڑھانے کیلیےکوئی پیشرفت نہیں کی،ریفرنس کو غیر معینہ مدت کے لیے التواء میں رکھ کر قانونی عمل کی توہین کی گئی،احتساب عدالت میں ریفرنس قریب المرگ ہو چکا تھا_

فیصلے میں واضع کیا گیا کہ شریف خاندان کو اپنے دفاع کےحق سے محروم رکھا گیا جبکہ ریفرنس کا مقصد ملزمان کو دباو میں لانے کے سوا کچھ نہیں تھا، فیصلے میں کہا گیا کسی شخص پر الزام کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے تاکہ قصور وار ملزم کو سزا اور بے قصور بری ہو سکے،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں ملزمان میں سے کسی نے بھی کیس کو ملتوی کرنے کی استدعانہیں کی،ملزمان کے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے پر نیب متحرک ہو گئی ،فیصلے کے مطابق حدیبیہ کیس کی اپیل نیب نے 1229ایام کے بعد دائر کی جبکہ تاخیر سے درخواست دائر کرنے کی وجوہات نیب بیان نہیں کرسکا ،نیب کی جانب سے نواز شریف ،شہباز شریف کی خود ساختہ جلاوطنی کا موقف اپنایا گیا،خودساختہ جلاوطنی کاموقف حقائق کے برخلاف موقف ہے_