بنی گالہ داد رسی کیلئے آنیوالوں نے خود غیر قانونی تعمیرات قائم کر رکھیں: چیف جسٹس

اسلام آباد ( اللہ داد صدیقی )مارگلہ ہلز پر سٹون کرشنگ اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کی۔
عدالت نے سی ڈی اے قوانین اور ریگولیشن پر عملدرآمد نہ ہونے پر وزیرکیڈ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وزیرداخلہ ،وزیرکیڈجوبھی متعلقہ ہے اسے عدالت بلائیں گے ،بنی گالہ دادرسی کے لئے آنے والوں نے خود غیر قانونی تعمیرات کررکھی ہیں،
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ جھڑک جھاڑ نہیں کرنی ،فائدہ دینے کے لئے سماعت کریں گے ،پانی کی قلت ہے ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو ادانہیں کیا ،جوڈیشل ایکٹوزم کا بالکل شوق نہیں ،فرائض میں کوتاہی پر ایکشن لینگے ،اپنے اختیارات کاعلم ہے باہر نہیں جائیں گے ،
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب اوراسلام آباد کے درمیان کچھ حدود کاتنازع ہے ،
چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد کی حکومتیں توبھائی بھائی ہیں ،دونوں بھائی بیٹھ کر مسئلہ کو حل کریں ،افسران نظرانداز نہ کریں تو ایک انچ سرکاری زمین پر قبضہ نہیں ہوسکتا ،1997ء میں کہاتھا,پاکستان کے قوانین کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ،عدالتی احکامات کولڈ اسٹوریج میں نہیں جانے چاہئیں ,جو بھی معاملہ اٹھائیں گے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی-