انتخابی ایکٹ 2017 ء کیخلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے منظور

اسلام آباد (اللہ داد صدیقی  ) سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف تمام درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلیں۔ عدالت نے نواز شریف سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ قانون بنانے کی سپریم باڈی ہے،انتخابی ایکٹ 2017 کی ترمیم سے کیا عوامی حقوق متاثر ہوئے ۔؟پارلیمنٹ کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے اصول کیا ہیں؟، سپریم کورٹ نے آج تک کتنے ایسے قوانین کو کالعدم قرار دیا اور قوانین کالعدم قرار دینے والے عدالتی فیصلوں کی نظیر سامنے لائیں۔۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف تحریک انصاف،پیپلز پارٹی ، شیخ رشید، جمشید دستی سمیت 13 جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی جانے والی درخواستوں پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ قانون بنانے کی سپریم باڈی ہے، پارلیمنٹ کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے اصول کیا ہیں؟، سپریم کورٹ نے آج تک کتنے قوانین کو کالعدم قرار دیا اور قوانین کالعدم قرار دینے والے عدالتی فیصلوں کی نظیر سامنے لائیں۔عدالت کو بتایا جائے کہ انتخابی ایکٹ 2017 کی منظوری سے کون سے عوامی مفادات متاثر ہوئے ہیں ۔؟ شیخ رشید احمد کے وکیل بیرسٹرفروغ نسیم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پارٹی سربراہ بننا ان کا ذاتی مقدمہ ہے، انتخابی اصلاحات ایکٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی کے لئیے منظور کیا گیا، قانون میں ترمیم کے بجائے نیا قانون لایا گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپکی جماعت نے قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا، فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ایم کیو ایم کے ایک سینیٹر نے ووٹ دیا جس پر قانون منظور ہوا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیٹیکل پارٹیز قوانین میں بہتری کے لیے ترامیم کی ضرورت ہے، اگر کوئی ایسا قانون بنا ہے جس میں پارٹی ارکان کی تعداد مقرر کی گئی تو اچھا قانون ہے، اس قانون سے ٹانگہ پارٹیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ سپریم کورٹ نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری تک تمام تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے نواز شریف سمیت تمام فریقوں سے جواب طلب کرلیا۔ کیس کی سماعت تئیس جنوری تک ملتوی کردی گئی۔۔