بینظیر بھٹو شہید کا قاتل زندہ اور قندہار میں ہے- سابق وزیر داخلہ رحمان ملک

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ: سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ بینظیر بھٹو شہید کا قاتل زندہ اور قندہار میں ہے ، افغان صدر سے مطالبہ کیا کہ قاتل پکڑیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بتائیں کہ بینظیر بھٹو پر حملے کے سہولت کار کو ڈرون حملہ کرکے کیوں مارا گیا ؟ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو سیکیورٹی نہیں دی؟ پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کے تمام قاتلوں کی نشاندہی کردی ہے، حکومت اسامہ کی ٹی ٹی پی کو مبارکباد والا خط سامنے لائے۔

یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد خود کش حملہ اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا، اس حملے میں 20 دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

بینظیر بھٹو کی دسویں برسی میں شرکت کے لئے سکھر ایئرپورٹ پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو پرخود کش حملے کے لیے دو دہشت گرد آئے تھے، جن میں سے ایک اکرام اللہ نامی خود کش حملہ آور آج بھی زندہ ہے۔ اکرام اللہ نے حملے کے بعد واپس جا کر بیت اللہ محسود کو رپورٹ دی تھی کہ اس نے بینظیر بھٹو پر گولی چلائی تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اکرام اللہ اس وقت افغانستان کے علاقے قندہار میں موجود ہیں اور مطالبہ کیا کہ افغان صدر اسے گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کریں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو دہشت گردی کے خلاف باتیں کرتے ہیں، بتائیں کہ بینظیر حملے کے سہولت کار عبید الرحمٰن کو سی آئی اے نے ڈرون حملہ کرکے کیوں مارا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو سیکیورٹی نہیں دی حالانکہ حملے کے ایک روز قبل ان کے ڈی جی آئی ایس آئی نے آگاہ کیا تھا کہ ان پر حملہ ہوسکتا ہے جب ان کے پاس اطلاع تھی تو پھر ان کو سیکورٹی کیوں نہیں دی گئی۔سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پرویز مشرف اگر سچے ہیں تو وہ پاکستان آکر اپنے کیسز کا سامنا کریں، ہم بینظیر بھٹو کے قاتلوں کا پیچھا کریں گے اور انہیں نہیں چھوڑیں گے۔

رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کے تمام قاتلوں کی نشاندہی کردی ہے، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد جائے وقوع سے ایک خظ ملا تھا اور حکومت کو اسے پبلش کرنا چاہیے۔ اس خط میں اسامہ بن لادن کو ٹی ٹی پی پاکستان کی جانب سے بینظیر کی شہادت پر مبارکباد دی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت گاڑی میں پانچ لوگ موجود تھے صرف سوالات مجھ سے کیوں پوچھے جارہے ہیں

31 اگست کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے مطابق 5 گرفتار ملزمان کو بری کردیا گیا جبکہ سابق سٹی پولیس افسر (سی پی او) سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) خرم شہزاد کو مجرم قرار دے کر 17، 17 سال قید کی سزا اور مرکزی ملزم سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا۔

بینظیر قتل کیس میں پانچ ملزمان اعتزاز شاہ، حسنین گل، شیر زمان، رفاقت اور رشید گرفتاری کے بعد سلاخوں کے پیچھے تھے، ان افراد کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بتایا جاتا رہا ہے، عدالت نے ان افراد کو بری کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ ان افراد کو مزید ایک ماہ تک نظربند رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اس کیس میں سزا پانے والے پولیس افسران نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مرحومہ بےنظیر بھٹو کے بچوں نے بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔