چیف جسٹس پاکستان کی حدیبہ ,عمران بارے فیصلوں پر وضاحتیں

( اللہ داد صدہقی سے )

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہر جج کو رائے دینے کا حق ہے، چیف جسٹس نے لاہور میں وکیلوں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی وضاحتیں دینے کی کوشش کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کس نے ہمیں آ کر کہا کہ اس طرح سے فیصلہ کرو؟، آج تک کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو ہمیں دباؤ میں ڈالے، قسم کھا کر کہتا ہوں ادارے پر کوئی دباؤ نہیں، فیصلےضمیر کے مطابق کرتے ہیں، گاؤں میں بابا رحمت جس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو کوئی اسے گالیاں نہیں نکالتا، جوڈیشری آپ کابابا ہے اس کی دیانت پر شک نہ کیجیے، ہمیں جو کچھ کرنا ہے سوچ سمجھ کر کرنا ہے ۔ حلفاً کہتا ہوں مجھے نہیں پتاتھا حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ اسی دن آنا ہے، یہ بھول جائیں کہ عدلیہ پر دباؤ ہے، یہ پلان کہاں سے آگئے یہ دباؤ کہاں سے آگئے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے خلاف فیصلہ ہو تو یہ گالیاں نہ نکالیں کہ بابا کسی پلان کا حصہ بن چکا، یہ بابا کسی پلان کاحصہ نہ بنا ہے نہ بنے گا، جج پوری ایمانداری اور دیانت سے فیصلہ کرتے ہیں ۔ جمہوریت کاکیا مقام ہے میں نے فیصلے میں بھی بتایا ہے، جمہوریت نہیں تو آئین نہیں، ہمارے نظام میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ وکلا فیسوں کے بجائے کیسز پر توجہ دیں، وکلا سائلین سے بہت زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں، کیس بنتا نہیں وکلافیس لینے کیلیے درخواست ڈال دیتے ہیں،

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’ہم پوری دیانت سے فیصلے کرتے ہیں اور ہم پر کوئی دباؤ نہیں جب کہ کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو ہمیں دباؤ میں لائے‘۔ ہمارے نظام میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ہے، وہ سائل جو حق پر ہے جسے ہر پیشی پر جانا ہے، وہ دن اس کی فیملی کے لیے موت کا دن ہے، وہ کبھی جج، کبھی وکیل کی مصروفیت کی وجہ سے لوٹ کر آتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیلوں کو مخاطب کر کے کہا کہ چیمبر میں جا کر جج حضرات کو گالیاں دینا کہاں کا شیوہ ہے، ایک جج کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، ہم لوگوں کو ان کے معیار کے مطابق انصاف نہیں دے پائے، لوگوں کو انصاف فراہم کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جوڈیشری کا ادارہ آپ کا بزرگ ہے، جب بزرگ فیصلہ کرتا ہے تو کوئی بزرگ کے خلاف گالیاں نہں نکالتا، اس بزرگ کی انٹیگریٹی پر شک نہ کریں، آپ کے خلاف فیصلہ ہو جائے تو یہ مت کہیں بابا کسی پلان کا حصہ بن گیا۔ ہم کسی پلان کا حصہ نہیں بنیں گے، پوری ایمانداری، جذبے اور دیانت سے فیصلے کرتے ہیں، کسی کے خلاف فیصلہ ہو تو وجہ ٹھیک نہیں ہوسکتی لیکن پلان اور دباؤ کہاں سے آئے، کس نے ہمیں کہا اس طرح فیصلہ کرو، آج تک کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو ہمیں دباؤ میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ قسم کھا کر کہتا ہوں ادارے پر کوئی دباؤ نہیں، فیصلے ضمیر کے مطابق کرتے ہیں، چیف جسٹس بننے کی عزت ملنی تھی اس سے بڑی عزت نہیں مل سکتی، اگر دیانت داری آزادی سے کام کریں تو اور عزت ملے گی، کیا ہم اتنا بڑا انعام چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ 18 ویں ترمیم کے فیصلے میں پارلیمنٹ کی حاکمیت تسلیم کی ہے اسے پڑھا جائے، ریاست کے تمام اسٹرکچر جمہوریت کے ساتھ ہیں، اگر جمہوریت نہیں تو آئین نہیں، اللہ نہ کرے اگر آئین نہیں تو ملک پر آنچ آئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اور ہمارے ساتھیوں نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنے آئین کا تحفظ کریں گے، اپنے بیٹے کا نام لے کے چیف جسٹس نے کہا کہ بچے کو شرمندگی کے ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ ان کا کہنا تھا وکلا ججز کی معاونت کریں، اپنے ادارے کو مضبوط کرنے میں تعاون کریں، تبصرہ کرنے والے لوگ جنہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہوتا، انہیں حالات پتہ نہیں ہوتے وہ ایسا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بھی سن کر حیران ہوتے ہیں۔ حلفاً کہتا ہوں مجھے نہیں پتا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ اسی دن آنا ہے، میں نے کہا ہے کہ کوئی فیصلہ ایک ماہ سے زیادہ محفوظ نہیں ہونا چاہیے۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ کو خوش ہونا چاہیے اور اپنی عدلیہ پر ناز ہونا چاہیے، پہلے کہا جاتا تھا کہ آزاد عدلیہ پر قدغن باہر سے ہوتی ہے اب ہر جج آزاد ہے، اگر کسی کا زور چلتا ہوتا تو پھر حدیبیہ کا فیصلہ اس طرح سے نہ آتا جس طرح سے آیا، ہر جج فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ ٹی وی پر ات کو تبصرے ہوتے ہیں، سپریم کورٹ میں کوئی تقسیم نہیں ہے، ججز اپنے علم کے مطابق کام کر رہے ہیں، ہر جج اپنی رائے دینے میں آزاد ہے، حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں، جتنے فیصلے کیے ضمیر اور قانون کے مطابق کیے، آئندہ بھی ایسے فیصلے کرتے رہیں گے اور مایوس نہیں کریں گے۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ قانون میں اگر کہیں غلطی ہو تو نشاندہی کرنا جج کی ذمے داری ہے، قانون کے مطابق فیصلہ کرنا جج کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ میں ججوں کو میرٹ پر لگاتے ہیں ایجنسیوں کی ججوں کے بارے میں رپورٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔