فیض آباد دھرنا :نہیں چاہتے کہ مظاہرین پر گولیاں برسائی جائیں-سپریم کورٹ

اسلام آباد , (اللہ داد صدیقی )سپریم کورٹ نے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق حکومت سے 30 نومبر تک پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دھرنے سے متعلق لئے گئے نوٹس پر سماعت کی۔

اس موقع پر وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی جانب سے جوابات عدالت میں پیش کیے گئے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ دھرنا قائدین سے مذاکرات کے لیے مشائخ کو شامل کیا گیا ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کو اسلام کا نہیں پتا، پاکستان کو دلائل کی بنیاد پر بنایا گیا، جب دلیل کی بنیاد ہی ختم ہوجائے تو ڈنڈے کے زور پر صحیح بات اچھی نہیں لگتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص نے اسلام آباد اور پنڈی کے سنگم کو بند کر رکھا ہے، ایک شخص کی رٹ قائم ہے لیکن ریاست کی نہیں۔

فاضل جج نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ تشدد کے علاوہ کوئی ایکشن پلان ہے جس پر اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم اقدامات کر رہے ہیں لیکن کچھ ایسے اقدمات ہیں جن کی تشہیر نہیں کی جارہی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انا اور تکبر سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب انا کے لیے ہو رہا ہے، رحمت کاسلام کسی کے منہ سے کیوں نہیں نکل رہا، سب کے منہ سےگالم گلوچ نکل رہی ہے، ہم بھی پریشان ہوتے ہیں مگر گالم گلوچ نہیں کرتے، ہم نہیں چاہتے کہ مظاہرین پر گولیاں برسائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے، ایک حوالہ دے دیں کہ راستہ بند کر دیا جائے، اسلام میں کہیں ایسا نہیں لکھا، یہ تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات ہوگئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جب ریاست ختم ہوگی تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے، کل کوئی اور مسئلہ ہوگا تو کیا پھر شہر بند ہوجائیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سڑکوں پر کنٹینرز عوام کے پیسے سے لگائے گئے، پبلک ٹرانسپرنسی کے لیے بتایا جائے کہ اس پر کتنا خرچہ آرہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چہلم حضرت امام حسین ؓ کا وقت تھا جب وہ مظاہرین فیض آباد انٹرچینج پر آکر بیٹھے، ہم نہیں چاہتے کہ خون خرابا ہو۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ آپ نے پرچے کتنے کاٹے جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 18کیسز درج کیے اور 169 لوگ گرفتار ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ‘ہم عام ملک میں نہیں اسلامی ریاست میں رہتے ہیں، لگتا ہے مسلمانوں کا اسلامی ریاست میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، بتائیں کیا حکم کریں، ذمے داری ریاست اور انتظامیہ کی ہے، ہم آپ کا کام نہیں کریں گے، پھر آپ ہی شکوہ کریں گے کہ ہمارے کام میں مداخلت ہوئی’۔

عدالت نے حکومت سے دھرنا مظاہرین کو فیض آباد انٹرچینج سے ہٹانے کے لئے پیشرفت رپورٹ 30 نومبر تک طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔