انتخابی بل 2017 کی قسمت کا فیصلہ سپریم کے ہاتھ

اسلام آباد, (اللہ داد صدیقی) : چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے انتخابی بل 2017 کو چینلج کرنے پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔

بدھ کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں اپنے چیمبر میں اعتراضات کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)، شیخ رشید، جمشید دستی اور دیگر کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کی۔

پی پی پی، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت 9 درخواست گزاروں نے انتخابی بل 2017 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف نااہلی کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے اہل ہوگئے تھے۔

اپوزیشن کی جانب سے دائر درخواست کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے تمام درخواستوں پر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا اعتراض لگایا تھا۔رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف بھی درخواست گزاروں نے سماعت کے لیے ان چیمبر اپیلیں دائر کی تھیں جس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی۔

چیف جسٹس کی جانب سے اعتراضات مسترد کیے جانے کے بعد اب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ اپوزیشن کی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گا جس کا فیصلہ کھلی عدالت میں ہو گا۔