یوم آزادی کی پرچم کشائی تقریب پارلیمنٹ ہاؤس منعقد کریں۔ چئرمین سینیٹ کا وزیراعظم کو خط

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم :چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وزیر اعظم پاکستان کوماضی کی جمہوری روایت کو بحال کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست یوم آذادی2017کی پرچم کشائی کی تقریب پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں منعقد کرائی جائے ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے بھی مذکورہ خیالات سے اتفاق کیا ہے ۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی طرف سے اس حوالے سے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں یوم آذادی کی پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہونا اس بات کی عکاسی ہو گی کہ ریاست اپنے اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کر رہی ہے ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آمرانہ ادوار میں بند دروازوں کے پیچھے یوم آزادی کی تقریبات منعقد کر کے عوامی مینڈیٹ چھیننے کی کوششیں کی گئیں۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی طرف سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پرچم کشائی کا آغاز 1980میں ہوا اور1985 کے آمرانہ دور میں یہ تقریب ایوان صدر میں منعقد کی گئی۔عام انتخاب کے بعد دو سال کے مختصر عرصے کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں منعقد ہوئی اور 1988 میں آمر کی جانب سے جمہوری حکومت کے خاتمے پر یہ تقریب دوبارہ ایوان صدر منتقل کر دی اور1989میں آمرانہ دور کے خاتمے پر جمہوری حکومت اسے پارلیمنٹ کے احاطے میں لے آئی جو 1999تک پارلیمنٹ کے احاطے میں منعقد ہوتی رہی۔2000کے آمرانہ دور میں پرچم کشائی کی تقریب پھر ایوان صدر منتقل ہوئی اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر پارلیمنٹ ہاؤس کو منتقل نہ ہو سکی اور یہ تقریب کنوینشن سنٹر میں ہی منعقد کی جاتی ہے ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مزید کہا کہ جمہوری حکومتوں کے دور میں سیکورٹی صورتحال کے باجود 23 مارچ کی پریڈ وفاقی دارالحکومت کے عین وسط میں منعقد کی گئی جو واضح پیغام ہے کہ ہم اپنے اداروں اور عوام کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔