کسی کو نااہل کرنے کے لیے شواہد ضروری۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ اللہ داد صدیقی: سپریم کورٹ میں عمران خان کےخلاف آف شور کمپنی اور غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت، چیف جسٹس نے کہا کہ کسی فرد کے ریذیڈنٹ یا نان ریذیڈنٹ ہونا بہت اہم ہے،اگر فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے کےکمیشن نہ بنا یا تو تفتیش کون کرے گا۔ جسٹس فیصل عرب کہتےہیں کہ کسی کونااہل کرنے کےلیے ٹھوس شواہد ہونا ضروری ہیں۔

سپریم کورٹ میں عمران خان کی آف شور کمپنی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ عمران خان کا راشد خان سے کیا تعلق ہے،نعیم بخاری نے بتایا کہ عمران خان کی راشد خان سے دیرینہ دوستی اور خاندانی تعلقات ہیں،عام انتخابات میں عمران خان سے حنیف عباسی الیکشن ہار گئے تھے، وکیل عمران خان نے کہا کہ حنیف عباسی نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اٹھایا اور نہ ہی انتخابی عذرداری داخل کی،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مقدمہ پانامہ کیس کا کاونٹر بلاسٹ ہے،نعیم بخاری نے کہا کہ حنیف عباسی ایفی ڈرین کیس میں ملزم ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس یہ مقدمہ زیر سماعت نہیں ہے۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چارٹرڈ اکاؤنٹٹ عاصم ذوالفقار عدالتی معاونت کے لیے پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ پروفیشنلی میرا نواز شریف اور عمران خان سےمتعلق رہا ہے،1947 سے لیکر اب پاکستان میں تین ٹیکس قوانین نافذ رہے،قانون میں ایک سو بیاسی دن سے زائد رہنے والے فرد رہائشی کہلاتا ہے، عاصم ذوالفقارنے بتایا کہ اگر کوئی فرد ایک سو بیاسی دن سے زیادہ پاکستان سے باہر رہے تو وہ نان ریذیڈنٹ کہلائے گا،انکم ٹیکس کا تصور آمدن پر ٹیکس کا اطلاق ہے، اگر کوئی شخص نان ریذیڈنٹ ہو اور بیرون ملک سےکمائی کرے تو اثاثے ظاہر کرنے یا نہ کرنے سے فرق نہیں پڑتا،بیرون ملک کمائی کرنے والے غیر رہائشی پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا، عاصم ذوالفقارنے کہا کہ بیرون ملک کمائی سے اثاثے ظاہر کرنا ضروری نہیں،کوئی کرکٹریا فٹ بالر پاکستان میں کمائی پر ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ الزام یہ ہے عمران خان کے پاس 1982 سے برطانیہ میں فلیٹ ہے، الزام ہے کہ عمران خان نے فلیٹ ظاہر نہیں کیا،یہ بھی الزام ہے فلیٹ دوہزار دو تک ظاہر نہیں کیا گیا،عاصم ذوالفقارنے بتایا کہ ٹیکس اتھارٹی کو مطمئن کرے کہ بیرون ملک کمائی سے اثاثہ بنایا تو ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا،چیف جسٹس نے کہا کہ کسی فرد کے ریذیڈنٹ یا نان ریذیڈنٹ ہونا بہت اہم ہے،اگر فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے کےکمیشن نہ بنا یا تو تفتیش کون کرے گا،جمائما سے کب تک ریکارڈ مل جائے گا، نعیم بخاری نے کہا کہ میں معلوم کرکے بتا سکتا ہوں مگر امید ہے جلد مل جائے گا، عدالت نے کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کردی۔