نہال ہاشمی کیخلاف توہین عدالت کا مقدمہ

اسلام آباد/ معظم رضا تبسم ، اللہ داد صدیقی : سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کر لیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو متعلقہ مواد اکھٹا کرنے کی ہدایت کر دی۔ مقدمے کی سماعت 5 جون کو ہو گی۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی پاناماعملدرآمد بنچ نے نہال ہاشمی کے خلاف معاملے کی سماعت کی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کرکے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ
کیا آپ دیکھ رہے ہیں کیا حالات وواقعات ہو رہے ہیں جے آئی ٹی میں کیا ہو رہا ہے ،ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں، کسی قسم کے نتائج سے گھبرانے والے نہیں ہیں ،جے آئی ٹی ہم نے بنائی ہے ۔

رجسٹرار کو ہم نے ہدایات دی تھی ،
جے آئی ٹی سے متعلق مبالغہ ارائی چلائی جا رہی ہے ۔پانامہ کیس کے دوران کہا تھا کہ عدالت کے باہر تمام ٹرائل ختم کیے جائیں ،ہم جانتے ہیں کیا کرنا ہے ، ہم فرشتے نہیں مگر جو کام بھی کرتے ہیں قانون کے مطابق کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ ہماری زندگی یے، چاہے انجام جو بھی ہو ،ہم نے ملٹری ڈکٹیٹر شپ کا سامنا کیا انہوں نے بھی ہمارے بچوں کو دھمکیاں نہیں دی مگر آپ کی حکومت میں ہمارے بچوں کو دھمکایا جا رہا ہے ۔

جسٹس عظمت سعید نے نہال ہاشمی سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی حکومت نے مافیا کو جوائن کرلیا ہے کیونکہ صرف مافیا والے بچوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم نے 3 نومبر کو بھی آمر کو برداشت کیا لیکن کسی نے بچوں کی دھمکی نہیں دی۔

نہال ہاشمی نے عدالت کے روبرو کہا کہ میرا اس دن روزہ تھا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ صرف نہال ہاشمی نہیں دیگر حکومتی اراکین بھی اسی طرز مہم چلا رہے ہیں، کابینہ کے ارکان پامانا کیس کی سماعت کے دوران دھمکیاں دیتے رہے۔ روز ہ سب کاہی ہوتا ہے، آپ شوکاز کاجواب دیں ، شوکاز کے جواب کا ویڈیو کے ساتھ موازنہ کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب طلب کرلیا جب کہ اٹارنی جنرل کو پراسیکیوٹر مقرر کردیا گیا ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ وہ میں وضو سےہیں اور کلمہ پڑھ کر کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی ادارے کو دھمکی نہیں دی، انہوں نے ایک خاص ذہنیت پر بات کی ہے، جب عدالت میں معافی سے متعلق پوچھا گیا تو کہا اللہ سے بھی معافی مانگتا ہوں اور عدلیہ سے بھی۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز تقریر کا نوٹس وزیراعظم نواز شریف نے نوٹس لے لیا جبکہ نہال ہاشمی کی بنیادی پارٹی رکنیت بھی معطل کردی گئی تھی۔

ن لیگ کے رہنما نہال ہاشمی نے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کے لیے زمین تنگ کردیں گے جو وزیراعظم سے حساب مانگ رہے ہیں۔

حکمران جماعت ن لیگ نے گذشتہ روز نہال ہاشمی کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے جبکہ انہیں وضاحت کے لیے وزیراعظم ہاؤس بھی طلب کرلیا گیا تھا۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اونگزیب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نہال ہاشمی سے سینیٹ کی رکنیت سے بھی استعفیٰ مانگ لیا گیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‘کسی کو آئینی اور قانونی اداروں کی تضحیک کی اجازت نہیں دیں گے، نہال ہاشمی کے بیان پر فوری ردعمل آیا اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

بعد ازاں نہال ہاشمی نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا جبکہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسے نہال ہاشمی کا استعفیٰ موصول ہوگیا ہے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی نہال ہاشمی کی دھمکی آمیر تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ پاناما کیس عملدرآمد بینچ کے پاس بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور نہال ہاشمی کو بھی عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی نے اپنی جذباتی تقریر میں دھمکی دی تھی کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی۔

ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے جوش خطابت میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ حساب لینے والے کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنادیں گے۔

ویڈیو میں نہال ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے،’اور سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نواز شریف کا بیٹا ہے، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں، حساب لینے والوں! ہم تمھارا یوم حساب بنا دیں گے’۔

ان کا مزید کہنا تھا، ‘جنھوں نے بھی حساب لیا ہے اور جو لے رہے ہیں، کان کھول کے سن لو! ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو، آج حاضر سروس ہو، کل ریٹائر ہو جاؤ گے، ہم تمھارے بچوں کے لیے، تمھارے خاندان کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کردیں گے’۔

نہال ہاشمی کا مزید کہنا تھا، ‘تم پاکستان کے باضمیر، باکردار وزیراعظم نواز شریف کا زندہ رہنا تنگ کر رہے ہو، پاکستانی قوم تمھیں تنگ کردے گی’۔

لیگی سینیٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے دوبارہ پیش ہوئے، جہاں ان سے 6گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔

جس کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور دانیال عزیز نے ایک پریس کانفرنس کے دوران جے آئی ٹی کے 2 ارکان پر وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

لیگی رہنماؤں نے جے آئی ٹی میں شامل سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز کے رویے پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حسین نواز نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کی گئی ای میل کے ذریعے جے آئی ٹی کے ممبران بلال رسول اور عامر عزیز پر اعتراض اٹھایا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا تھا۔

جس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے لیگی رہنما نہال ہاشمی کے متنازع بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں اسلام آباد طلب کرلیا اور ساتھ ہی نہال ہاشمی کے خلاف پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پرانضباطی کارروائی کاحکم بھی دے دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی نہال ہاشمی کے بیان کو پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹی (جے آئی ٹی) کے ارکان کو ڈرانے کی کوشش قرار دے دیا جبکہ سپریم کورٹ سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بھی نہال ہاشمی کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ‘آل شریف یا تو ضمیر خریدتی ہے یا خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتی ہے،انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ پر حملہ کیا، سجاد علی شاہ نے اپنی کتاب میں ن لیگ کی جانب سے بینچ خریدنے کی کوششوں کا ذکر کیا’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جسٹس قیوم کو کی جانے والی فون کال یاد کیجئے جس میں انہیں بتایا جارہا ہے کہ فیصلے میں کیا لکھنا ہے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی نے جو کچھ کہا، وہ ان کی ذاتی رائے تھی، سینیٹر کے بیان سے وزیراعظم نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کا کوئی تعلق نہیں۔