حسین نواز سے ساڑھے چھ گھنٹےتفتیش

اسلام آب پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم: وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز سے پاناما کیس جے آئی ٹی ٹیم کی جوڈیشل اکیڈمی میں ساڑھے چھ گھنٹے پوچھ گچھ، وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی دوران تحقیقات طبعیت خراب ہو گئی۔ تفتیش سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے حسین نواز کا کہنا تھا ک پوچھے گئے سوالات کے جواب دئیے ہیں۔قانونی حقوق کے مطابق دستاویزات دونگا،قانون سے ہٹ کر کوئی چیز پیش نہیں کرونگا۔ رویہ درست نہ ہوا تو سپریم کورٹ جاؤں گا۔ میرے بہن بھائی یا والد کے بارے کوئی جیز ثابت نہیں ہو سکی۔ رمضان میں طویل تفتیش کی جارہی ہے ۔ قانونی عمل کا احترام کرتے ہیں ۔ جے آئی ٹی جب بلائے گی آؤنگا۔ صدر نیشنل بنک کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔

جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیرصدارت پاناما لیکس جے آئی ٹی کی تفتیش جاری رہی ، منگل کے روز وزیراعظم کے سب سے بڑے صاحب زادے حسین نواز دوسری مرتبہ پیش ہوئے، جے آئی ٹی نے حسین نواز سے ان کی بیرون ملک جائیدادوں ، اثاثوں اور کمپنیوں سے متعلق پوچھ گچھ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز سے مے فیئر فلیٹس ، ہل میٹلز لمیٹ،عزیزیہ ملز سمیت دیگر دستاویزات مانگی ہیں۔

اس سے قبل جب حسین نواز جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی اور وہ وزیر اعظم اور حسین نواز کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔

دوسری جانب نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے بھی جے آئی ٹی کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔

حسین نواز اور سعید احمد کے بیان ریکارڈ کیے جانے کے دوران وفاقی جوڈیشل کمپلیکس میں پمز اسپتال کی ایک ایمبولینس پہنچی جس میں موجود ایک ڈاکٹر کی جانب سے تعارف کرائے جانے کے بعد ایمبولنس کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ ایمبولنس بھجوانے کے حوالے سے پمز انتظامیہ کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں طویل اجلاس کے باعث ایمبولینس طلب کی گئی تھی۔