پاناما جے آئی ٹی پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ اللہ داد صدیقی: سپریم کورٹ کے تین رکنی خصو صی بنچ نے پانامہ کیس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے مبینہ غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقا تی ٹیم پر وزیر اعظم کے صا حبزادے حسین نواز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ایسے اعتراضات کو قبول کرتے رہے تو پھر تحقیقات کے لیے آسمان سے فرشتے بلانے پڑیں گے۔۔۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی خصو صی بنچ نے جے آئی ٹی کے دو ممبران کے حوالے سے حسین نواز کے تحفظات کی سماعت کی۔ حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے تحریری اعتراضات کے ساتھ طارق شفیع کا تین صفحات پر مشتمل بیان حلفی بھی عدالت میں پیش کیا جس کے مطابق جے آئی ٹی کے دو ممبرانہیں تفتیش کے دوران مسلسل جھوٹا قرار دیتے رہے۔ طارق شفیع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے ان سے سوال کیا کہ وہ مدینہ سے اتنے کم وقت میں آگ سے کھیلنے کے لیے پاکستا ن کیوں آ گئے۔۔۔؟خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے طارق شفیع کو تیر گھنٹے بٹھایا اور انہیں ہراساں کیا گیا۔۔۔خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے ممبر بلال رسول کے حوالے سے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ تحریک انصاف کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں۔ جے آئی ٹی میں شامل ایک اور ممبر عامر عزیز صدر پرویز مشرف کے دور میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے، جن کی جانب سے اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لینا شفاف تحقیقات کے تقاضوں کے مجروع کرے گا۔ طارق شفیع کو بیان حلفی واپس نہ لینے پر جیل میں ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ خواجہ حارث کا موقف تھا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے شفاف تحقیقات کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں ممبران کو تبدیل کیا جائے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ عام آدمی ہو یا وزیر اعظم ۔۔۔سب کا احترام لازم ہے۔ تاہم اعتراضات کو قابل جواز ہونا چاہیے۔ ایسے اعتراضات آتے رہے تو تفتیش کے لیے آسمان سے فرشتے بلانے پڑیں گے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ نے جے آئی ٹی پر نازیبا سلوک کا نہیں ، تعصب کا الزام لگایا ہے ۔ ہم جے آئی ٹی کے کسی رکن کو تبدیل نہیں کریں گے اور نہ ہی اسے کام سے روکیں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔ وزیراعظم تحقیقاتی ٹیم مقرر کریں گے ایسا نہیں ہوگا۔ ماموں اور چاچوں کا کیس دیکھنے لگے تو کوئی نہیں بچے گا۔انہوں نے کہا کہ طارق شفیع کو جے آئی ٹی نے سوالات پوچھنے کے لیے ہی بلایا تھا چائے پلانے کے لیے نہیں بلایا تھا۔جسٹس اعجاز ال احسن نے ریمارکس دیے کہ یہ چھ رکنی جے آئی ٹی ہے۔۔۔ کسی ایک ممبر کی جانبداری پوری جے آئی ٹی پر اثر انداز نہیں ہو گی۔

عدالت نے جے آئی ٹی کے سر براہ واجد ضیاء کی جانب سے تین شخصیات کو سمن جاری کیے جانے کے باوجود تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے کی شکایت کا بھی جائزہ لیا۔عدالت نے حکم دیا کہ نیشنل بینک آٍف پاکستان کے سربراھ سعید احمد کل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں اور اگر وہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرتے ہو ان کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ عدالت نے قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم کو جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کیے جانے پر کہا کہ اگر قطری شہزادہ پیش نہیں ہوتا تو اس کی جانب سے پیش کیے جانے والے خط کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایک اور گواہ کاشف مسعود قاضی سیکورٹی تحفظات کی بنیا د پر لندن سے پاکستان نہیں آ رہے ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کی اس استدعا پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کسی بھی گواہ کو سمن جاری کرتے وقت ساتھ لانے والی دستاویزات کی فہرست بھی فراہم کرے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ پنجاب میں کسی کو سمن جاری کرتے وقت ایسا ہی کرتے ہیں۔۔۔۔؟اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔ ۔۔۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم آپ سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ آپ کسی کی طرفداری کریں گے۔۔۔

عدالت نے جے آئی ٹی کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے حسین نواز کے وکیل سے کہا کہ ہم نے آپ کے اعتراضات نوٹ کر لیے ہیں۔ عدالت ہر پندرہ دن کے بعد جے آئی ٹی کے کام کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس دوران اگر عدالت کے سامنے کوئی ایسی ٹھوس چیز لائی جاتی ہے کہ تحقیقات شفاف نہٰیں ہو رہی ہیں تو اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت کو شک ہوا کہ جے آئی ٹی کے حوالے سے تعصب اور شفافیت کا کوئی ایشو ہے تو اس پر کاروائی کی جائے گی۔ مگر محض شکوک اور خدشات کی بنیا د پر جے آئی ٹی کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی جس نے اپنا کام مقررہ مدت میں پورا کرنا ہے۔