مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے۔سپریم کورٹ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / اللہ داد صدیقی: سپریم کورٹ میں ماربل کٹائی کے دوران گرد سے پیدا ہونے والی بیماریوں کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران
لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بلوچستان سے متعلق رپورٹ جمع کرادی ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کی 233 صنعتوں میں 5548 ملازمین ہیں،بلوچستان میں ماربل کی 111 صنعتوں میں 821 ملازمین ہیں، صنعتی مزدوروں کے تحفظ کا بل بلوچستان اسمبلی میں زیر التوا ہے،
صوبائی ماحولیاتی ایجنسی نے مزدوروں کے تحفظ کیلئے ضابطہ کار مرتب کرلیا۔
درخواست گزار کا سپریم کورٹ میں دعوی تھا کہ لاہور میں 4 ہزار غیر رجسٹرڈ فیکٹریاں کام کررہی ہیں،
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پنجاب میں کتنے ماربل صنعتی یونٹس ہیں۔
حکومت پنجاب کے وکیل نے کہا کہ
300 کے قریب انڈسٹریل یونٹ ہیں، وکیل پنجاب حکومت عصمہ حامد
پنجاب حکومت نے بغیر لائسنس یافتہ 23 یونٹس بند کیے، سرکاری وکیل نے کہا کہ پنجاب میں مزدوروں کی حفاظت کیلئے قانون سازی کر لی گئی۔
ایڈووکیٹ عصمہ حامدمزدور کا تحفظ نہ کرنے والی صنعتوں کیخلاف پولیس کارروائی کررہی ہے،
ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہاکہ کے پی کے میں1069 انڈسٹری ہے اس میں 58163 ورکر کام کر رہے ہیں
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا مقصد مزدوروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے،مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سی پیک کا منصوبہ شروع ہوچکا ہے لیکن عدم تحفظ کے باعث ہمارے مزدور کمزور ہورہے ہیں،
عدالت نے وفاق اور چاروں صوبوں سے سٹون کریشنگ انڈسٹری کی رجسٹریشن کی تفصیلات طلب کرلیں
ملک بھر کے مزدوروں کے تحفظ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب
کیس کی سماعت 15 دنوں کیلئے ملتوی کردی۔