مسلم لیگ ن پر بھی غیرملکی فنڈنگ لینے کا الزام

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/اللہ داد صدیقی: سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف غیر قانونی اثاثوں کے الزام کی حامل حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے مسلم لیگ نون پر بھی غیر ملکی فنڈنگ لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ تحریک انصاف کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ نون لیگ نے بھی برطانیہ میں کمپنی رجسٹرڈ کروا رکھی ہے جس کے زریعے فنڈز اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے مسلم لیگ نون برطانیہ کی دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک شاخ صرف پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی ہے ۔ یہ بیرون ملک شاخیں ملک سے باہر فنڈز بھی جمع کرتی ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی ملک سے محبت کرتے ہیں اور ان کی فنڈنگ غیر ملکی فنڈنگ شمار نہیں ہوگی ۔ تاہم اگر کلبھوشن فنڈنگ کرے تو وہ غیر ملکی فنڈنگ میں شمار ہو گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو جلسے میں ایک مقامی کمپنی نے بسیں اور جہاز ممنوعہ طریقے سے فراہم کیں تو تحقیقات کو ن کرے گا۔۔؟ممنوعہ فڈنگ کی سکروٹنی کون اور کس وقت کرے گا۔۔۔؟اگر الیکشن کمیشن کے علم میں یہ معاملات ٓئیں تو ہو تحقیقات کا حق رکھتی ہے۔۔۔انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں کہ شکایت پر کاروائی کرے۔ الیکشن کمیشن تمام پارٹیوں کا اکاونٹس پبلک کر دیتا ہے۔میرا مدعا یہ ہے کہ جب ایک دفعہ اکاونٹس اور اثاثہ جات پبلک ہو جائیں تو وہ دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے کہنے کے مطابق اگر اکاونٹس پبلک یا شائع ہو جائیں تو تو پھر الیکشن کمیشن کے اختیار پر قدغن لگ جاتی ہے۔ ہم الیکشن کمیشن سے اس معاملے پر وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی بیرون ملک فنڈنگ کے حوالے سے انور منصور نے کہا کہ پی ٹی آئی یو ایس، ایل ایل سی کے اکاونٹس کے زریعے فنڈز جمع کرتی ہے۔یہ ایک کارپوریٹ باڈی ہے جو تحریک انصاف کے لیے ممبر شپ اور فنڈز جمع کرتی ہے۔ یہ چندہ صرف انفرادی طور پر وصول کیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی یو ایس ایل ایل سی کا مقصد پاکستانی نژاد امریکیوں کی ممبر شپ اور ان سے عطیات جمع کرنا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیا ل نے ریمارکس دیے کہ جن لوگوں سے چندہ لیا جاتا ہے ،ان کے بارے میں یہ تعین کون کرے گا کہ وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی۔۔۔؟ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ کے لیے ایجنٹ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔؟ انور منصور نے کہا کہ یہ قانونی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔۔۔ جسٹس عمر عطا بندیا ل نے ریمارکس دیے کہ ی مفاد عامہ کا مقدمہ ہے۔۔ملک کی ایک سیاسی جماعت پر غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے۔۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا کوہری شہریت کا حامل شہری پارٹی رکنیت لے سکتا ہے۔۔؟ انور منصور نے جواب دیا کہ دوہری شہریت رکھنے والوں پر پارٹی رکنیت کے حوالے سے کو ئی پابندی نہیں ہے۔۔
انور منصور نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔ کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیار ہ بجے دوبارہ ہوگی۔