پاناما جے آئی ٹی کی پہلی رپورٹ پیش

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ اللہ داد صدیقی: پانامہ کیس کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیق کے لیے قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی پیش رفت پر مشتمل پہلی رپورٹ سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ کو پیش کر دی ہے۔

مشترکہ تحققیاتی ٹیم کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بنچ نے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سماعت کی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا ء نے اب تک کی جانے والی تحقیقات کے حوالے سے پہلی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ بنچ کے تینوں ججوں نے عدالت کے اندر ہی رپورٹ کا سرسری جائزہ لیا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم نے رپورٹ دیکھی ہے اور ہم اس سے غیر مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے جے آئی ٹی کے سربراھ سے کہا کہ اگر آپ کو تحقیقات کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو یا کوئی ادارہ آپ سے تعاون نہیں کر رہا تو آپ عدالت کو آگاہ کریں ۔عدالت کو اپنے احکامات پر عمل کرانا آتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے جے آئی ٹی کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کو تحقیقات کے لیے ساٹھ دن دیے گئے ہیں۔ آپ نے اپنا کام مقررہ مدت میں مکمل کرنا ہے ۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو کسی صورت میں اضافی وقت نہٰیں دیا جائے گا۔ جسٹس اعجاز ال احسن نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کے کام کے راستے مٰیں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی اپنا کام مقررہ وقت میں پورا کرے۔
پاکستان تحریک انصاف کے فواد چوہدری نے استدعا کی کہ انہیں رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون سے ہٹ کر کارروائی نہیں کریں گے۔ آپ ہمیں بتا ئیں کہ قانون کی کس شق کے تحت ہم آپ کو تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش کر سکتے ہیں۔
عدالت نے رپورٹ کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔