پاناما کیس نے سیاسی خطرات بڑھا دئیے، عالمی بنک

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ : ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاناما پیپرز کے معاملے نے پاکستان میں سیاسی خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ ملک میں پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

ورلڈ بینک نے “پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کو اندرونی طور پر ‘قدرتی آفات، سیاسی معاملات اور دہشت گردی’ کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات ممکنہ طور پر اصلاحات کے عمل اور مائیکرو اکنامک پالیسی کے عمل’ کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ہر چھ ماہ بعد شائع کی جانے والی اس رپورٹ میں مالیاتی ادارے نے معیشت میں ہونے والے حالیہ ترقی اور خطرات کی نشاندہی کی ہے جبکہ مستقبل قریب میں اہم ترقیاتی چیلنجز کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ورلڈ بینک پہلا مالیاتی ادارہ نہیں ہے جس نے خبردار کیا ہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔

گذشتہ سال انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی صدر کرسٹین لغراد نے نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں کرپشن کا تاثر نجی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتا ہے اور یہ غیر یقینی صورت حال پیدا کرسکتا ہے جبکہ ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔

انھوں نے تجویز دی تھی کہ شفافیت میں اضافے، لوگوں کے احتساب اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ہٹانے سے کرپشن کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک سابق مشیر نے واضح کیا کہ پاناما پیپرز کا معاملہ سیاسی بحران میں اضافہ کرسکتا ہے، جیسا کہ سرمایہ کار پہلے ہی سے ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کے مفروضے پر عمل کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ پاناما پیپرز کے حوالے سے پائی جانے والے غیر یقینی صورتحال ہے

ان سب کے باوجود عالمی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو رواں مالی سال کے اختتام پر 5.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو گذشتہ 9 سال میں سب سے زیادہ ہوگی۔

تاہم ورلڈ بینک کی رپورٹ میں متعدد خطرات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کی شرح نمو برقرار رہے گی اور یہ مالی سال 18-2017 میں 5.5 فیصد اور مالی سال 19-2018 میں 5.8 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ انتہائی ضروری اصلاحات کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ترقی کو کمزور اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرسکتی ہے، جبکہ ڈالر کی قیمت میں استحکام کے باعث حقیقی و موثر شرح تبادلہ میں اضافہ ہوا جو پاکستان کی برآمدات میں مسابقت کو تباہ کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ عالمی معاشی کمزوریوں، خاص طور پر یورپ کے معاملات، کے باعث ملک کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایلانگو پاچاموتھو نے کہا کہ ‘پاکستان کی ترقی میں اضافہ ایک اچھی خبر ہے اور یہ اعتماد سازی میں کامیابی کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن اصلاحات کا عمل انتہائی سست ہے اور یہ ضروری ہے کہ اس کی رفتار تیز کی جائے۔