ڈان لیکس قضیئہ اور چیلنجز

سول اور فو جی قیادت میں تناؤ کا باعث بنے ڈان نیوز لیکس معاملے کا منطقی نتیجہ وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید ، وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی کی برطرفی، اور راؤ تحسین کے خلاف ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت کارروائی کے نوٹیفکیشن کی صورت نکلا۔ کہنے کو تو یہ معاملہ حل ہو گیا مگر وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات پر وزیر اطلاعات کی وضاحت نے ایک بار پھر سول حکومت کی مبینہ طور پر کرائی یقین دہانی کی تردید کی ہے ۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے وزیراعظم کی جانب سے سجن جندال سے ملاقات پر فوجی قیادت کو اعتماد میں لینے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

بھارت میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے بزنس مین سجن جندال نے اپنے چند دوستوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ گزشتہ ماہ مری میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔

مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں سجن جندال سے ملاقات کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی کاروباری شخصیت سجن جندال وزیراعظم نواز شریف کے پرانے دوست ہیں اور دونوں کی ملاقات ذاتی حیثیت میں تھی۔ اس حوالے سے بی بی سی کی خبر درست نہیں ہے۔

چیرمین رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس کے دوران ڈان لیکس سے متعلق حکومتی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔

گذشتہ روز سینیٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے 4 ملٹری ڈکٹیٹرز کے خلاف جنگ لڑی، ہم نے ملٹری ڈکٹیٹرز کا سامنا کیا اور پرویزمشرف کو بھگایا جب کہ وزیراعظم کے احکامات میجرجنرل نے مسترد کیے تو سب سے پہلے میں بولا، میں نے ایک گھنٹے کے اندر متعلقہ ٹویٹ پر جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں میں اپنے اسٹینڈ پر قائم ہوں جب کہ ڈان لیکس سے متعلق 10 روز بعد آنے والے نوٹیفیکیشن میں کچھ نہیں، پرویز رشید شریف النفس ہیں انہوں نے اپنی زبان روک رکھی ہے جب کہ وزیراعظم کہتے ہیں میں دوستوں کو کبھی نہیں چھوڑتا، مشاہداللہ خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

واضح رہے کہ سابق پیپلز پارٹی دور حکومت کے وزیر دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی کو بھی فوج پر تنقید کرنے پر وزارت سے فارغ کیا گیا تھا۔

سینٹ میں خطاب کرتے اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا کہ خبر اگر لیک ہے تو درست نہیں لیکن اگر کچھ بھی نہیں تھا تو خطرناک بات ہے، حکومت نے اس معاملے میں 3 بکرے قربان کردیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ پرویزرشید اور طارق فاطمی ایسا نہیں کرسکتے تاہم راو تحسین کو میں نہیں جانتا، ایسے اشخاص کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں جو میٹنگ میں تھے ہی نہیں جب کہ وزراء کے بیان بھی آپس میں نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ آفتاب محنتی وزیر ہیں ان کی بھی جلد چھٹی ہوجائے گی لیکن معذرت کے ساتھ اس معاملے میں ہم وزیر پارلیمانی امور کو نہیں سنیں گے،شیخ آفتاب کی بہت عزت کرتے ہیں لیکن وہ بحث نہیں سمیٹیں گے جب کہ ڈان لیکس معاملے پر دونوں فریقوں کو پارلیمنٹ آنا چاہیے۔

اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ یہ کسی کی جیت اور ہار نہیں، پارلیمنٹ ہی سپریم ہے لیکن جمہوریت کو تقویت ملی ہے اور ہمیں اب اس معاملے کوختم کردینا چاہیئے۔

چیرمین سینیٹ نے شیخ آفتاب کے بیان پراظہاربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ کسی بھی وزیر کو بھیجے لیکن چوہدری نثار کوسینٹ کے اجلاس میں ہونا چاہیے تھا۔ معذرت کے ساتھ آپ کے جواب سے مطمئن نہیں، پریس ریلیز میں شامل دو فریقین کا کیا مطلب ہے، آئین کا مذاق نہ اڑایا جائے، اس معاملے پر میں قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لوں گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھارتی بزنس مین سجن جندال سے ہونے والی ملاقات پر انہیں اعتماد میں لیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اہم سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی حالیہ ملاقات میں بھارتی تاجر سجن جندال کے دورہ پاکستان کے بارے میں انہیں اعتماد میں لیا اور بتایا کہ سجن جندال اہم بھارتی حکام کی ایما پر ان سے ملے اور یہ ملاقات بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ایک بھارتی کوشش کا حصہ ہے۔

دوسری طرف فوجی قیادت نے بھی سجن جندال کی وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں اپنے افسران کو اعتماد میں لیا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ساتھیوں کو بتایا ہے کہ سجن جندال کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ ہے۔

بھارتی بزنس مین اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران کیا پیش رفت ہوئی اس حوالے سے کوئی بات منظرعام پر نہیں آئی تاہم فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کسی بھی موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل میں بیک چینل یا سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں کا موضوع نہیں ہوگا جب کہ فوجی قیادت کا اس بارے میں مؤقف ہے کہ کلبھوشن کو کسی قیمت پر بھی کسی ‘لین دین’ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا اور وہ ضروری قانونی کارروائیاں پوری ہونے کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

سول اور فوج قیادت میں ڈان لیکس کا معاملہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں طے ہوا تھا۔ ڈان کے صحافی سرل المیڈا نے گذشتہ سال اکتوبر میں فوج پر سویلین قیادت کی طرف سے مبینہ دہشتگردی میں ملوث گروہوں کیخلاف کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کئے جانے کے حوالے سے خبر دی تھی۔ جبکہ کمیٹی سفارشات میں اے پی این ایس کو اس معاملے میں کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے۔

تحسین راؤ جنھیں بھی حال ہی میں عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، وہ بھی اپنے معطلی سے خوش نہیں تھے ، معطلی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ کمیشن کی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ تاہم ابھی تک وہ دم سادھے دکھائی دیتے ہیں۔

اس صورتحال میں جب افغانستان اور پاکستان کے سرحدی تنازع پر دونوں ممالک میں کشیدگی اُس وقت بڑھ رہی ہے جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی اور لڑائی کی کیفیت ہے دونوں ایک دوسرے کیخلاف فوجی حملوں کی کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ جبکہ ایران نے بھی پاکستان کے اندر کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

جنوبی ایشیاء کے یہ متحارب نیو کلیئر ملک کشیدگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
انڈیا کی فوج اور حکومت بار بار یہ عہد کررہی ہے کہ وہ یکم مئی کو.کراس بارڈر حملے میں بھارتی فوج کے دو سپاہیوں کی ہلاکت پرپاکستان کو خون آلود سزادے گئی۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن بارڈر پر جھڑپیں  شروع ہیں  پاکستان کی مردم شماری کی سرکاری ٹیم کو افغانستان کی سیکورٹی فورسز نے اس وقت روکا جب وہ مردم شماری کی مہم چلا رہی تھی۔ افغانستان کا کہنا یہ تھا کہ جس علاقے میں وہ مردم شماری کررہے تھے وہ افغانستان کا علاقہ ہے قندھار کے گورنر کے نمائندے نے نیویار ک ٹائم کو بتایا کہ مردم شماری کی ٹیم متنازعہ علاقے میں داخل ہو گئی تھی اور وہ ان دو دیہاتوں کو بھی مردم شماری میں شامل کرنا چاہتے تھے جو کہ متنا زعہ علاقے میں شامل ہیں ۔

اسلام آباد نے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے افغان سرکاری حکام کو مرد م شماری کی مہم کے بارے میں پہلے سے آگاہ کردیا تھا اور مردم شماری کی ٹیم پاکستان کے سرحدی علاقے میں ہی موجود تھی جب افغان فورسز نے ان پر فائرنگ شروع کردی ۔پاکستانی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اپریل، سے افغان بارڈرپولیس پاکستان کی سرحد کے اندر کلی لقمان اور کلی جہانگیر جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان منقسم ہیں وہ پاکستانی سرحد کے اندر مردم شماری کی راہ میں مسائل پیدا کررہے تھے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان شدید لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی جو جمعہ کو روکی۔ پہلی اطلاع کے مطابق اس لڑائی میں 12افراد ہلاک ہوئے جس میں سویلین افراد کے علاوہ دونوں ممالک کی افواج بھی شامل ہیں اس کے علاوہ بہت سے لوگ زخمی بھی ہو ئے۔ جبکہ فرنٹےئر کور بلوچستان کے میجر جنرل ندیم انجم نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس جھڑپ میں افغان سیکورٹی فورسز کے50افراد کو ہلاک اور سو سے زائد افراد کو زخمی کیا ہے اور اس کے ساتھ چار سے پانچ افغان بارڈر کے چیک پوسٹوں کو تباہ کیا ہے ۔ ندیم انجم کے مطابق لڑائی اس وقت بند کردی گئی جب افغان فورسز نے جنگ بندی کی پیشکش کی،جبکہ کابل نے ندیم انجم کے دعوے کو بے بنیاد،، قرار دیا ۔

بعد ازاں افغان اور پاکستانی لوکل کمانڈرز کے درمیان دو مرتبہ فلیگ میٹنگ ہوئی لیکن اس تنازعے کے حل پر کس نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں البتہ اتوار کو تیسری فلیگ میٹنگ کے دوران دونوں ممالک کے کمانڈرز اس بات پر راضی ہو ئے کہ جیولو جیکل سروے کے ذریعے نقشہ کشی کرکے دونوں کی سرحدوں کا درست تعین کیا جائیگا۔لیکن ابھی تک کشیدگی کی وجہ سے دونوں جانب فورسز ہائی الرٹ ہیں،پاکستان اور افغانستان کے دو تجارتی راستوں جو کہ نیٹو سپلائی کا بھی ذریعہ ہیں ان میں سے ایک یعنی چمن(باب دوستی) فی الحال ابھی تک بندہے ۔

افغان پاکستان بارڈر ز کی یہ جھڑپ گزشتہ سالوں میں بدترین جھڑپ تھی یہ اس وقت ابھر کر سامنے آئی جبکہ امریکی فوج ٹرمپ انتظامیہ کو15سالوں پر محیط جنگ میں تعطل توڑنے کی سفارشات مرتب کررہا ہے پنٹاگون کی سفارشات میں مزید5000امریکی افواج کی افغانستان میں تعیناتی ہے ۔

فی الحال ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان کی پالیسی کی تفصیلات اب تک مکمل نہیں ہوئی ہیں لیکن وہ اس بارے میں پرزور الفاظ میں کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی انتہائی اہم ہے۔ امریکہ کا میڈیا سیاسی اور فوجی اسٹبلشمنٹ ہمیشہ سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انکی افغانستان میں مداخلت کی وجہ فریب پر مبنی د ہشت گردی کیخلاف،، جنگ ہے لیکن افغانستان میں امریکی مداخلت کی حقیقی وجہ آج بھی اور2001میں بھی سینٹرل ایشیاء کے تیل اور معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں جو افغانستان کے سرحدوں کے قریب ہیں اس کے علاوہ واشنگٹن کے نقطہ نظر میں اسکے بڑے اسٹیٹیجک حریف چین ،روس اور ایران بھی افغانستان کے پہلو میں واقع ہیں ۔

اپریل کے وسط میں ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی کے ایڈوائزرلیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے کابل اور اسلام آباد کا دورہ امریکی افواج کے افغانستان پر سب سے بڑے بم (ایم او اے بی) کے پھینکنے کے کچھ ہی دنوں بعد کیا تھا ۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے پاکستان پر زوردیا تھا کہ وہ امریکی جنگ کی افغانستان میں اور بھی زیادہ حمایت کریں اور حقانی اور طالبان ملیشیاء کے ٹھکانے جو کہ کہا جاتا ہے کہ فاٹا میں موجود ہیں انکے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے ۔اور کابل میں اپنے میزبانوں کو مطمئن کرنے کی غرض سے میک ماسٹر نے کہا تھا کہ پاکستان کے سیکورٹی فورسز کو جنگجو گروپوں کیخلاف فوجی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،، یعنی کے طالبان اور ان کے اتحادیوں کیخلاف،جنہوں نے پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور مزید یہ کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ ڈپلومیسی کے ذریعے کرئے ناکہ پروکسی جنگ کے ذریعے ۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات سالوں سے انتہائی نچلی سطح تک گرتے جارہے ہیں ۔کابل عرصہ دراز سے اسلام آباد پر الزام عائد کرتا چلاآرہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور دوسرے طالبان دھڑوں کو اسلام آباد محفوظ راستہ دے رہا ہے تاکہ افغان جنگ کے سیاسی تصفیے میں وہ ایک فیصلہ کن کردار ادا کرسکیں،جبکہ گزشتہ 5برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے اسلام آباد افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں پر جوابی الزام عائد کرتا چلاآرہا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی حمایت کررہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں جو متواتر طور پر عیسائیوں اور شیعہ اقلیتوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

افغانستان بھارتی اور پاکستانی اسٹریٹیجک محاز آرائی کا اہم اور تیزی سے بدلتا ہوا میدان جنگ بھی ہے ۔
جنوبی ایشیاء میں دھائیوں تک پاکستان اور واشنگٹن بنیادی فوجی اتحادی رہے ہیں لیکن گزشتہ ایک دھائی سے امریکہ کے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں اور اس کے برعکس انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہوئے ہیں جس کا بنیادی مقصد انڈیا کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے چین کے خلاف فوجی اسٹریٹیجک کارروائی کر سکے ۔

واشنگٹن نے ڈیموکریٹک اور رپبلیکن دونوں انتظامیہ کے ادوار میں انڈیا پر عنایت کی اور اسے خصوصی رعایتوں سے نوازا ہے جبکہ پاکستان کو یکسر نظر انداز کیاگیا ہے جو کہ ایک واضع وارننگ ہے کہ خطے کے طاقت کے توازن کو بدلتے ہوئے امریکہ نے انڈیا کے جارحانہ روایہ کو شہ دی ہے۔

رواں ماہ انڈیا کے فوجی چیف جنرل بی پین راوات نے انڈیا کے فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے چین اور پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے استعمال کرے گا۔

راوات نے افغانستان کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انڈیا کی اسٹریٹیجک امنگ کی مدد کرسکتا ہے جس میں انڈیا کے دو خاص حریفوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شامل ہے ۔ راوات نے مزید کہاکہ وہ نہ صرف ہماری مدد کرسکتا ہے بلکہ(الف) دو طرفہ محاذ کی مشکل صورتحال یعنی ہمارے مغربی ہمسایہ(پاکستان) اور شمالی ہمسایہ(چین) کے بھی مغرب کی سمت ہماری مدد کرسکتا ہے ۔

بھارتی جنرل راوات کا کہنا کہ وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت دیگا اسلام آباد کو اکسانا ہے۔ اسلام آباد بار بار انڈیا اور افغانستان پر یہ الزام عائد کرچکا ہے اسکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

واشنگٹن کی شہ نے نئی دہلی کو پہلے ہی سے اپنے تعلقات کو کابل کے ساتھ بڑھادیا ہے جس میں سیکورٹی تعلق بھی شامل ہے۔حالیہ چند مہینوں میں انڈیا نے کھلا کر کابل کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ وہ اسلام آباد کیخلاف زیادہ ہٹ دھرمی کا روایہ قائم کرئے اس پالیسی میں تبدیلی بیک وقت خود انڈیا کی پاکستان کیخلاف بڑھتے ہوئے جارحانہ روپ کا اختیار کرنا ہے۔

پچھلے سال اگست میں انڈیا نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی پالیسی پر جو مہم شروع کی تھی جس میں اس نے پاکستان کو ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی،، سے گردانا تھا یا سرپراست اعلیٰ قراردیا تھا۔ پھر اس نے ستمبر کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اس نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے پار سرجیکل سٹرائیک کی تھیں اور جیسے عوامی سطح پر بڑے فخر سے پیش کیاگیاتھا اور کہا تھا کہ اس نے پاکستان کے حوالے سے اسٹریٹیجک ضبط کی پالیسی کو رد کردیا ہے۔

پچھلے سال ستمبر میں افغان صدر اشرف غنی نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ افغانستان پر بلائی گئی ہرٹ آف ایشیاء،، کی کانفرنس میں یہ کہہ کر کہ پاکستان دہشتگردی کی پشت پناہی کررہا ہے اسلام آباد کو شدیدتعیش دلایاتھا۔ پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاتھا کہ پاکستان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں دئیے ہوئے ہے۔ اشرف غنی نے مطالبہ کیا کہ میں اس کانفرنس سے وضاحت چاہتا ہوں کہ اس کی روک تھام کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔

کابل پاکستان کی بارڈر پر دیوار یا باڑ بنانے کی کوششوں کی مخالفت کرتا رہا ہے بلکہ وہ موجودہ بارڈرز کی بھی مخالفت کررہا ہے یہ برطانوی مسلط کردہ سرحد ہے جیسے ڈیورنڈ لائن کا نام دیاگیا ہے جسے افغان حکومتوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔پچھلے سال جون میں جب طورخم کے بارڈر کو سخت کرنے پر یا پھر باڑ لگنے کی پاکستان کی جانب سے کوششیں کی گئی تو اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں پاکستان کا ایک فوجی آفیسر جبکہ افغانستان کے دو فوجی ہلاک ہوئے۔

اسلام آباد نے اسکے جواب میں افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کیلئے سخت کارروائی شروع کی تھی ان میں وہ مہاجرین بھی شامل تھے۔ جو پاکستان میں دھائیوں سے آباد تھے، پچھلے سال فروری میں یکے بعد دیگر حملوں کے بعد اسلام آباد نے طورخم بارڈر افغانستان کے لئے بند کردیا تھا جو تقریباً ایک ماہ تک مکمل بند رہا پاکستان نے اس بارڈر کی بندش کا جواز یہ دیاتھا کہ پاکستانی طالبان افغانستان سے ان پر حملے کررہے ہیں۔

خطے میں تناؤ کی اس صورتحال کے پس منظر میں پاکستانی سول اور فوجی قیادت میں اعتماد کا فقدان یقینا اچھا شگون نہیں۔ ڈان لیکس کے معاملہ پر تناؤ کے پیچھے وزیراعظم نواز شریف کی بھارتی صنعتکار جندال سے ملاقات اور کلبھوشن کا معاملہ بھی ایک وجہ بنا۔ آرمی چیف اور وزیراعظم ملاقات کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی آر کی پریس بریفنگ نہ صرف ڈان لیکس معاملے کے خاتمے کا اعلان تھی بلکہ بھارت، افغانستان ، ایران اور سعودی قیادت میں اسلامی ممالک کی اتحادی افواج میں کردار کے حوالے سے فوجی قیادت کی خارجہ پالیسی کا بھی اظہار تھی۔ ڈان لیکس معاملہ میں جیت کس کی ہوئی واضح ہے۔