عالمی امن کے لئے جنگ کیخلاف لڑائی کیسے ممکن ؟

دنیا تباہ کن عالمی تنازعات کے دہانے پر کھڑی ہے۔ سرمایہ دار حکومتوں کے سربراہوں کے جنگجوانہ بیانات میں تلخی بڑھتی جارہی ہے۔

امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جس جنگ نے پوری دنیا کو تباہی اور بربادی کا شکار بنا دیا ہے۔ افغانستان ، عراق ،لبیا اور شام تباہ برباد کر کے رکھ دئیے۔ جنوبی ایشیاء ، مشرقی ایشیاء ، مشرقی وسط اور مشرقی یورپ میں نئی جنگوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

امریکی اور یورپی جدید نو آباد یاتی سازشوں کے اہداف جنوبی امریکہ ، مشرقی یو رپ ،ٹرانس کا کیشیا اور بر صغیر میں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعات کشید گی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ کی آڑ میں ایک دوسرے کے علاقوں میں گھس کر سرجیکل اسٹریک کرنے کی دھمکیوں کی چنگاریاں جنگ کی آگ بڑھکا سکتی ہیں۔

مشرقی ایشیاء میں سابق صدر اوباما کی ” ایشیاء کے گرد گھیرا تنگ ” اور چین کے ساتھ مخاصمت کی پالیسی نے پورے خطے میں ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے۔

دہشت گردی کیخلاف جاری اس جنگ میں ان گنت انسانوں کا قتل عام ہوا، لا تعداد انسانوں کو اپاہج اور اذیت سے دو چار ہوئے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کے بحران کو پیدا کیاہے۔ جس کے نتیجے میں 60 ملین افراد اپنے ملکوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ سینکڑوں ہزاروں افراد ہجرت کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر یورپ پہنچے تو انہیں حراستی مرکزوں میں مقید کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ ان سے روزمرہ کا معمولی سازو سامان بھی چھین لیا گیاہے۔

ان خطوں پر جنگ مسلط کرنے کے لئے سا مراجی باجگزار حمکران اور سیاسی پارٹیاں ایک ایجنڈے کے تحت قومی ، نسلی، اور مذہبی تعصبا ت کو اُبھا ر رہی ہے۔

1930 میں سیاسی ردعمل کے طور پر یہودیوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیاتھا۔آج شمالی امر یکہ ، یو رپ اور آسٹریلیامیں ذرائع ابلاع کے ذریعے مسلمانوں کو بد نام کیا جا رہا ہے۔اور ریاستی سرپرستی کے ذریعے انہیں امتیاز ی سلوک نسل پرستی اور فا شسٹ تشددکا نشانہ بنا یا جارہاہے۔

سترہ برسوں سے جاری ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے جرائم کے لیے ایسی قانون سازی کی گئی کہ کوئی سرکاری افسر یا فوجی انٹیلی جنس اہلکار جواب دہ نہ ٹھہرای جا سکے۔بین الاقوامی قانون یکسر غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مفادات کے لیے استعما ل کیا جارہا ہے ۔ سامراجی طاقتیں اپنے عوام کو تقسیم رکھنے اور عوامی حقوق کی تحریکوں کو دہشتگردی سے دبانے کے لئے ریا ستی نگرانی میں رہنے والے افراد استعمال کرتی ہیں اور انہیں استعمال کرتے ہوئے جمہوری حقوق کو بُری طرح پامال کیا جارہا ہے۔ امریکہ کے بو سٹن ،فرگوسن اور دیگر شہر وں میں کر فیودراصل مارشل لاء کے نفاد کے لیے ایک ریہرسل ہے۔ نومبر 2015 میں فرانس میں حملوں کے بعد اُسے ’’ہنگامی حالت‘‘ کے تحت برقرار رکھا گیا ہے۔

سرمایہ دار حکمران طبقات ریاستی خفیہ اداروں سے افراد کا ڈیٹا بیس اکھٹا کر کے بڑے پیمانے پر جاسوسی کررہی ہیں۔ محنت کش طبقے کے علاقوں میں پولیس کے مظالم قتل وتشدد روزمرہ کا معمول اور حقیقت بن چکا ہے۔حکمران طبقے کی پالیسیوں سے پیدا سماجی عدم مساوات کی بحرانی صورت حال کا حل ڈھونڈنے کے بجائے بدحالی کے شکار محنت کشوں ک ریاستی آشیرباد رکھنے والے مذہبی ، نسلی متعصب گروہوں اور مستقل پولیس جبر اور تشددکے ذریعے دبانے کا لائحہ عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔

پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے پہلے کی طرح سیاسی لیڈرز اور فوجی منصوبہ ساز یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ کوئی دور کی بات نہیں۔بلکہ انتہائی ممکن ہے اور شاید ناگزیر ہے۔

بین الا قوامی تعلقات کے ماہرین رچرڈاین روزن کیرنس اور سٹیون ای میلر نے ” نئی عظیم جنگ ” نامی کتاب لکھی ہے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار جنگ ناگزیر سمجھ لی جائے تو پھر فوجی قیادتوں اور سیا سی لیڈروں کے حساب کتاب میں تبدیلی آجاتی ہے۔سوال پھر یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہو گی یا نہیں بلکہ سوال اٹھتا ہے کہ جنگ میں اب زیادہ فائدہ کب اور کہاں اٹھایا جاسکتاہے وہ جو جنگ کے بارے میں پر جوش یا پر امید نہیں ہوتے وہ بھی اس فریم ورک کا حصہ بن کر نا گزیر طور پر جنگ کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

جنگ کی جانب بڑ ھنے کی سازش کی ذمہ داری سرمایہ دار اشرافیہ اور حکومت کی اعلیٰ سطح کے فوجی اینٹلی جنس کے اداروں ، کارپوریٹ مالیاتی اشرافیہ اور کرپٹ دائیں بازو پر عائد ہو تی ہے۔جو اسے فقط جمہوری بحث کے بہانے ہی سہی، کے بغیر ہی اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں اس کے بر عکس عالمی سطح پر محنت کشوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں امن کی زبر دست خواہش پائی جاتی ہے۔ تاہم کوئی منظم بین الاقوامی سیاسی تحریک سامراجی لا پروا جنگجوانہ پالیسیوں کی مخالفت میں نہیں ہے۔

سرمایہ دار طاقتوں کی اپنے مفادات میں بڑھائی اس جنگ کو رو کنا انتہائی ضروری ہے۔ جنگ کے خلاف ایک نئی بین الاقوامی تحریک ضروری ہے۔ جو سر مایہ داری اور سامراجی کی مخالفت پر محنت کشوں اور نوجوانوں کو عالمی سطح پر متحد کرے۔

سر مایہ داری کا بحران جس جنگی جنون اور جنگ کو پیدا کر تاہے وہاں سماجی انقلاب کو بھی جنم دیتا ہے تاہم جنگ اور سماجی عدم مساوات، جمہوری حقوق کی پامالیوں کے خلاف جو نفرت اربوں لو گوں میں پائی جاتی ہے ان کی نئے تناظر اور لائحہ عمل رکھنے والی قیادت ہی رہنمائی کر سکتی ہے۔